کراچی: شہر قائد میں منگل کی صبح سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 48 گھنٹے بارش کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے ہیں اور اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
شدید بارش کے باعث قائد آباد، لانڈھی، ملیر، گلشن حدید اور لیاقت آباد سمیت کئی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہوگیا ہے جبکہ شاہراہ فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ اور دیگر مرکزی شاہراہیں پانی میں ڈوبنے سے ٹریفک جام ہوگیا۔ ہزاروں شہری گھنٹوں سے سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق گلستان جوہر بلاک 12 میں مکان کی دیوار گرنے سے 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بھارتی ریاست اوڑیسہ کے قریب موجود بارشوں کا سسٹم آئندہ ایک سے دو دن میں بھارتی گجرات پہنچے گا، جو سندھ سمیت کراچی میں مزید بارشوں کا سبب بنے گا۔ ترجمان محکمہ موسمیات نے کہا کہ 23 اگست تک سندھ کے بیشتر علاقوں میں درمیانی اور کہیں شدید بارش ہوسکتی ہے۔
موسمیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ دو روز کراچی کے لیے نہایت اہم ہیں اور موسلا دھار بارش کے باعث اربن فلڈنگ کے خدشات موجود ہیں۔






