بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کے بعد پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، جس کے باعث کئی اضلاع میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
ہیڈ سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر بھی پانی کی سطح بڑھ گئی ہے۔ بہاولپور میں ڈیرہ بکھا کے قریب زمیندارہ بند ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی تیار فصلیں زیرِ آب آگئیں جبکہ ایمپریس برج پر بھی دباؤ بڑھنے لگا ہے۔
قصور کے گنڈا سنگھ والا سے ملحقہ دیہات میں پانی داخل ہونے سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ پاکپتن اور عارف والا میں سیلابی صورتحال کے باعث احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔
دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، جس کے نتیجے میں تونسہ کی 60 سے زائد بستیاں زیرِ آب آگئیں۔ تونسہ، دراہمہ اور غازی گھاٹ کے کچے علاقوں میں بھی پانی داخل ہوگیا ہے جس کے بعد انتظامیہ نے مقامی آبادی کو نقل مکانی کی ہدایت کر دی ہے۔






