تل ابیب: اسرائیل نے مغربی کنارے میں انتہائی متنازع اور غیر قانونی بستی ای ون کے قیام کے منصوبے کی حتمی منظوری دے دی۔
انتہا پسند وزیر خزانہ بیزالیل اسموتریچ نے کہا کہ E1 بستی کے قیام کا منصوبہ گزشتہ ہفتے پیش کیا گیا تھا اور وزارت دفاع کی منصوبہ بندی کمیٹی نے آج اسے باضابطہ منظوری دے دی۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات عملی طور پر ختم ہوں گے۔
فلسطینی وزارت خارجہ نے منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بستی مقامی فلسطینی آبادی کو الگ تھلگ کر دے گی اور دو ریاستی حل کے امکانات ختم کر دے گی۔
ایون منصوبہ مغربی کنارے کو درمیان سے کاٹ دے گا اور مشرقی یروشلم سے اس کا زمینی رابطہ ختم ہو جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 3,400 نئے رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے اور بنیادی انفراسٹرکچر کے کام آئندہ چند ماہ میں شروع ہونے کا امکان ہے۔






