واشنگٹن: امریکا نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ ماہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے فلسطینی اتھارٹی کے نمائندوں کو ویزا نہیں دیا جائے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) اور فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کے ارکان کے ویزے منسوخ یا مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے کہ پی ایل او اور پی اے کو ان کے وعدوں پر عمل نہ کرنے اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچانے پر جواب دہ ٹھہرایا جائے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے فلسطینی قیادت پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت اور عالمی عدالتِ انصاف کا سہارا لے کر ’قانونی جنگ‘ کر رہی ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار نے امریکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس جرات مندانہ اقدام اور اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے پر مشکور ہیں۔ خیال رہے کہ فرانس جنرل اسمبلی اجلاس سے ایک روز قبل خصوصی اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ویزا پابندی تمام فلسطینی حکام پر لاگو ہوگی یا نہیں، تاہم امریکی فیصلے کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس کی شرکت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں تمام ریاستوں اور مبصرین، بشمول فلسطینیوں، کی شرکت اہم ہے اور امید ظاہر کی کہ یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔






