لاکھوں فالورز والے درجنوں نوجوان ٹک ٹاکر انفلوئنسر گرفتار

0
158


مصر میں درجنوں نوعمر ٹک ٹاک انفلوئنسروں کو حراست میں لیا گیا ہے، ان پر خاندانی اقدار کی خلاف ورزی سے لے کر منی لانڈرنگ تک کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔پولیس استغاثہ کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر10 مقدمات کی تحقیقات جاری ہیں۔ سفری پابندیاں، اثاثے منجمد کرنے اور آلات کی ضبطی بھی عائد کی گئی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے یہ کریک ڈاؤن ایک ایسے ملک میں پولیس کی تقریر اور ریاستی کنٹرول کو سخت کرنے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جہاں سوشل میڈیا ریاست کے زیر اثر میڈیا کے چند متبادلوں میں سے ایک کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔

10 مقدمات کی تحقیقات جاری ہیں

وکلاء کا کہنا ہے کہ مبہم بے حیائی کے قوانین حکام کو وسیع اختیارات فراہم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ غیر قانونی سمجھے جانے والے مواد کے لیے پرانی پوسٹوں کی چھان بین کر سکتے ہیں اور پھر اثر و رسوخ رکھنے والوں پر مالی جرائم کا الزام لگا سکتے ہیں۔سب سے نمایاں قیدیوں میں سے ایک 19 سالہ مریم ایمن ہیں، جنہیں آن لائن سوزی ایل اورڈونیا کے نام سے جانا جاتا ہے، جن کے 9.4 ملین فالوورز ہیں۔ انہیں 2 اگست کو نازیبا مواد تقسیم کرنے اور 15 ملین مصری پاؤنڈ 3 لاکھ ڈالر کی منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا ہے۔

پوسٹوں بارے میں شکایات پر حراست میں لیا گیا ،وزارت داخلہ

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی پوسٹوں کے بارے میں شکایات کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ حراست میں لیے جانے سے قبل ایک آخری ویڈیو میں انہوں نے اپنے مواد پر تنازعات کا اعتراف کیا تھا ان کے وکیل مروان الغندی نے کہا کہ بے حیائی کے قوانین کا اطلاق غیر مستقل طور پر کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک قانون ہے جو نازیبا حرکتوں کو جرم قرار دیتا ہے لیکن ہمیں صرف ٹک ٹاک کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام پلیٹ فارمز کے لیے مستقل اطلاق اور طے شدہ قوانین کی ضرورت ہے

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا