سعودی عرب کی آرامکو اور عراق کی سرکاری آئل کمپنی سومو نے یورپی یونین کی پابندیوں کے بعد بھارت کی روسی حمایت یافتہ ریفائنری کمپنی نایارا انرجی کو خام تیل کی سپلائی روک دی ہے۔
اس فیصلے کے بعد نایارا انرجی اگست میں اپنی تیل کی ضروریات کے لیے مکمل طور پر روس پر انحصار کرنے پر مجبور ہوگئی۔
کپلر اور ایل ایس ای جی کے مطابق نایارا ہر ماہ اوسطاً 20 لاکھ بیرل عراقی تیل اور 10 لاکھ بیرل سعودی تیل خریدتی تھی، لیکن اگست میں کوئی کارگو نہیں ملا۔ کمپنیوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔






