پاکستان چوتھی ترقیاتی اڑان بھر چکا ہے، احسن اقبال

0
230

پاکستان کے پاس ٹیلنٹ، وژن اور وسائل موجود ہیں، ضرورت صرف مؤثر قیادت کی ہے:وفاقی وزیر منصوبہ بندی

کراچی: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی تاریخ میں تین بار ترقی کی ’’اڑان‘‘ بھرنے کی کوشش کی، جو مختلف وجوہات کی بنا پر کامیاب نہ ہو سکیں، تاہم اب پاکستان ’’چوتھی اڑان‘‘ بھر چکا ہے اور ہمیں استحکام، وژن اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 1960 کی دہائی میں پاکستان ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت تھا، لیکن 1965 کی جنگ نے ترقی کی رفتار کو روک دیا۔ دوسری کوشش 1993 میں نواز شریف کے دور میں ہوئی، جب اقتصادی اصلاحات کے ذریعے جنوبی ایشیا میں پاکستان کو نمایاں مقام حاصل ہوا۔

انہوں نے کہا کہ تیسری ترقیاتی لہر 2016 میں سی پیک کے آغاز سے اٹھی، جب چینی سرمایہ کاروں نے پاکستان کی طرف رخ کیا، جس نے معیشت کے لیے نئی راہیں کھولیں۔ اب حکومت نے ’’اڑان پاکستان پروگرام‘‘ کے تحت چوتھی اڑان شروع کر دی ہے، جس میں اسکلز ڈیولپمنٹ، ڈیجیٹل انوویشن، اور صنعتی استحکام پر توجہ دی جا رہی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ اور وسائل موجود ہیں، اصل چیلنج صرف بہتر گورننس اور مؤثر مینجمنٹ کا ہے۔ انہوں نے ایٹمی پروگرام کو پاکستان کی تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کے لیے ’’یونیورسل ماڈل آف سکسیس‘‘ بن چکا ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ اگر چیئرمین بار بار بدلے جاتے جیسے وزرائے اعظم بدلے جاتے ہیں، تو پاکستان ایٹم بم کے بجائے آج بھی پٹاخے بنا رہا ہوتا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، روپے کی قدر میں استحکام آیا ہے، اسٹاک مارکیٹ نے ریکارڈ سطح حاصل کی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ’’برِج اکانومی‘‘ بننے کی ضرورت ہے، جہاں جدید زراعت، صنعت، اور ڈیجیٹل معیشت ترقی کی بنیاد بنیں۔ وزیراعظم کے حالیہ دورۂ ملائیشیا نے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مغرب کی طرف دیکھنے کے بجائے ہمیں اپنے وسائل اور صلاحیتوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔ پاکستان ایک محنتی، باصلاحیت اور جڑا ہوا معاشرہ ہے، اور 28 مئی 1999 کو ایٹمی طاقت بننے کا دن اس قوم کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی تقدیر بدلنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، بس ضرورت صرف استحکام، وژن، اور پائیدار قیادت کی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا