میری تصویریں

0
859
محمد اظہر حفیظ

میرے پاس لاکھوں میری اصل تصویریں ہیں۔ نہ میں اپنے آپ کو رنگتا ہوں نہ ہی اپنی تصویروں کو۔ سب زندہ وجاوید تصویریں ہیں۔ میں ہر تصویر میں رہتا ہوں نظر آتا ہوں۔ میں کبھی ایک جگہ نہیں رہ سکتا ۔ اگر آپ مجھے کمرے میں بھی بند کردیں تو آپ حیران ہوں گے کہ میں آپ کو اس کمرے میں نہیں ملوں گا۔ گوگل میپ بھی بہت پریشان ہے ۔ کہ یہ بیٹھا اسلام آباد میں ہےپایا اپنے گاؤں لائلپور میں جارہا ہے۔ اس کی لوکیشن کا کیا کریں ۔

میں ہروقت اپنی ہر تصویر میں رہتاہوں۔ میری لاکھوں زندگیاں ہیں اور میں سب کی سب بہترین گزار رہا ہوں۔ان تصاویر کے نہ تو ٹائیٹل ہیں اور نہ ہی ان پر میں اپنا نام لکھتا ہوں کیونکہ ہر تصویر خود بتاتی ہے میں محمد اظہر حفیظ ہوں۔ آج بہت تھک گیا ہوں ٹانگیں بہت دکھ رہی ہیں میں لیٹا لیٹا فیری میڈوز تک چلا گیا ۔ برف پڑ رہی تھی نانگا پربت بھی سردی سے بچنے کیلئے بادلوں میں چھپا ہوا تھا ۔ مجھے دیکھ ملنے چلا آیا کافی دیر گفتگو ہوئی۔ کہنے لگا کیسے عاشق ہو اتنے سال بعد آئے بتایا کہ بیمار تھا اب آتا رہوں گا اور پھر اس تصویر سے میں باہر نکل آیا۔ سردی محسوس ہورہی تھی

فورا ہی سٹیل مل فرنس کی تصویر نکال لی لوہا تقریباً پگل چکا تھا درجہ حرارت سولہ سو کے قریب تھا شکر الحمدللہ سردی لگنا بند ہوگئی۔ ابھی فرنس کی حدت کو محسوس کرہی رہا تھا کہ محسوس ہوا کہ میرے ماتھے کو کوئی ہاتھ چھورہا تھا۔ بیگم صاحبہ گویا ہوئیں۔اظہر کیا بات ہے آپ کو پسینہ آرہا ہے ۔ جی فرنس کا درجہ حرارت ہی بہت زیادہ ہے پسینہ تو آنا ہی ہے۔ پھر پیرچھو کے کہا پاؤں تو بلکل برف ہیں ۔

کہیں طبعیت تو خراب نہیں ہورہی ۔ نہیں ہرگز بھی نہیں۔ پاؤں نانگا پربت پر ہیں اور سر سٹیل فرنس میں ہے۔ اس وجہ سے دو درجہ حرارت آپ کو محسوس ہورہے ہیں۔ اور میں نے ٹانگیں کھینچ کر اپنے سینے سے لگالیں۔ کیا بات ہے کچھ بھی تو نہیں پاؤں نانگا پربت سے کھینچ لیے ہیں کہ کہیں گرم سرد ہوکر بیمار نہ ہوجاوں۔ اچھا اب کدھر کی تیاری ہے۔ سینٹورس کی چھت پر کھڑا ہوں ٹھنڈی ہوا سے پسینہ خشک کر رہا ہوں ۔ پر ہوا بھی رک رک کر آرہی ہے وہ کیوں شاید میں غزہ میں آگیا ہوں ہر طرف راستے بند ہیں کنٹینر اور تاریں لگی ہوئی ہیں۔ ادھر کدھر چلے گئے ہیں یہ اسلام آباد ہی ہے۔

نہیں میں حراست میں ہوں میرے گھر کے راستے میں کئی رکاوٹیں ہیں۔ گھر پہنچنا بہت مشکل ہے۔ کسی پارک میں چلے جائیں ۔ زرد پتے گر رہے ہیں ہوا میں خنکی ہے۔ بابوسر ٹاپ بند ہے دوسرے راستے سے میں نے ہنزہ نہیں جانا۔ میری کمر درد کرنا شروع ہو جاتی ہے۔ تو کہیں نزدیک چلیں جائیں اچھا چلو کوئی اور تصویر لے کےآو۔ واہ جی واہ ملتان میں بھی گرمی قدرے کم ہوگئی ہے ۔ بہاوالدین زکریا صاحب کا مزار آگیا دعا کر لوں۔ کبوتروں کو دانہ ڈال لوں۔ جی کمال ہوگیا ۔ کبوتروں والا بابا مجھے دیکھتے ہی میرے پیچھے بھاگنے لگ گیا ہے میرا سانس پھول رہا ہے ۔

خبردار جو تصویر کیلئے میرے کبوتر اڑائے۔ میں بغیر تصویر بنائے وہاں سے باہر آگیا ہوں۔ سانس نارمل کرنے میں کچھ وقت لگا۔ چلو کوئی دوسری تصویر لے آؤ یہ نیلی ٹائل کا کام واہ جی واہ شاہ شمس سبزواری صاحب کا مزار اگیا۔ اللہ خیر کرے آج رش کچھ کم ہے چلو سکون سے تصویریں بناتا ہوں۔ یہ کیا دیا جلانے والی جگہ مزید کالی ہو گئی ہے۔ سرسوں کا تیل ڈال کر میں بھی دیا جلا لوں۔آپ تو پیروں کو نہیں مانتے۔ نہیں نہیں یہ سچل بابے ہیں

میں انکو مانتا ہوں یہ مجھے مانتے ہیں۔ یہ مجھے بہترین تصاویر بنانے والا مانتے ہیں اور میں انکو اللہ کا نیک بندہ۔اچھا میں نے بادشاہی مسجد لاہور جانا ہے رہنے دیں رات کے تین بج چکے ہیں ۔اور میں نے جوتے اتارے اور نیم بند دروازے کو کھولا اور مسجد میں داخل ہوگیا ۔ ہلکی ہلکی روشنی ہے میں مسجد میں اکیلا داخل ہوا ہوں پر محسوس یہ ہو رہا ہے کہ میرے ساتھ اور بہت سارے لوگ بھی چل رہے ہیں میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ہیں پر میں ڈرتے ڈرتے دائیں بائیں کی تصاویر بنا رہا ہوں کہ شاید تصویر بن جائے۔ پر کامیابی نہیں مل رہی۔ کچھ مینار پاکستان کی تصاویر بن گئی ہیں اور کچھ مسجد کی مجھے ڈر لگ رہا ہے

آپ سے کس نے کہا اس وقت مسجد جانے کا۔ یار وہ انتظامیہ والے دن میں تصاویر نہیں بنانے دیتے پابندی لگی ہوئی ہے۔اور رات میں یہ اللہ کی مخلوق ڈراتی ہے کہ تصاویر نہ بنائیں۔ پر ہم جیسے فوٹوگرافر گھر میں بستر پر لیٹے لیٹے سب جگہ کی تصاویر بنا رہے ہیں اب ہمیں یہ کیسے روکیں گے۔ لاکھوں تصاویر نیگیٹو اور ہارڈ ڈسک پر محفوظ ہیں اور کروڑوں میری آنکھ میں محفوظ ہیں جن کا اظہار میں لکھ کر کرتا ہوں ۔ تاکہ وہ تصاویر بھی آپ کو دکھاؤں جن کی میں نمائش نہیں کرتا۔ جو میرے اندر رہتی ہیں ۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا