دوحہ/ریاض/تہران: افغانستان کی جانب سے پاکستان پر جارحیت اور پاکستان کے جوابی اقدام کے بعد سعودی عرب، قطر اور ایران نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں اور مسائل کو سفارتکاری کے ذریعے حل کریں۔
سعودی عرب کا ردعمل
سعودی وزارتِ خارجہ نے پاک افغان سرحدی تناؤ اور جھڑپوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں فریقین سے کہا گیا کہ وہ کشیدگی میں کمی، علاقائی سلامتی کے تحفظ اور استحکام کے لیے مزید بگاڑ سے گریز کریں اور بات چیت کو ترجیح دیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان اور سعودی عرب نے باہمی دفاعی تعاون کا اسٹریٹجک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت کسی ملک پر بیرونی حملہ دونوں کے خلاف جارحیت تصور ہوگا۔
قطر کا مؤقف
قطری وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان تنازع کو تحمل، مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کریں۔ کشیدگی میں کمی کو خطے کے امن واستحکام کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔ قطر نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ تنازع کا تسلسل پورے خطے کے امن کو متاثر کر سکتا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی اور امن کے لیے پُرعزم ہے۔
ایران کا پیغام
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان اور افغانستان دونوں پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان استحکام پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
یاد رہے کہ پاک افغان بارڈر پر افغان فورسز کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاکستانی فوج نے جوابی کارروائی میں متعدد افغان چوکیوں اور عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور بھاری نقصان پہنچایا۔






