پی ٹی آئی کے رہنما محمد سہیل آفریدی نئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا منتخب

0
735

پشاور میں نئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا کہ اپوزیشن اراکین واک آؤٹ کرتے ہوئے ایوان سے باہر نکل گئے۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اسی دوران رولنگ دی کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور ہوچکا ہے، جس کے بعد انتخابی عمل آگے بڑھایا گیا۔

وزارتِ اعلیٰ کے لیے چار امیدوار میدان میں تھے جن میں پی ٹی آئی کے محمد سہیل آفریدی، جے یو آئی (ف) کے مولانا لطف الرحمان، مسلم لیگ (ن) کے سردار شاہجہان یوسف اور پیپلز پارٹی کے ارباب زرک شامل تھے۔ اجلاس کے آغاز پر علی امین گنڈاپور نے چیئرمین پی ٹی آئی کی تصویر اٹھاکر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیا۔

اسمبلی ہال کا دروازہ بند ہونے پر پی ٹی آئی کارکنوں نے شدید احتجاج کیا اور دروازہ پیٹنا شروع کر دیا۔ سیکیورٹی سے جھڑپ کے بعد کارکن اندر داخل ہوگئے اور پابندی کے باوجود بڑی تعداد میں ایوان میں پہنچ کر نعرے بازی کی۔

پی ٹی آئی کے رکن ڈاکٹر امجد نے خطاب کرتے ہوئے تحریک لبیک کے کارکن کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور ایوان میں اجتماعی دعا کرائی۔ اس کے بعد اسپیکر نے رولنگ میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 130 کی شق 8 کے تحت علی امین گنڈاپور 8 اکتوبر کو استعفیٰ دے چکے ہیں اور 11 اکتوبر کو اس کی تحریری تصدیق بھی کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ کے استعفے کی منظوری کے لیے کوئی آئینی شرط موجود نہیں۔

رولنگ کے بعد نئے قائد ایوان کے انتخاب کا عمل شروع کیا گیا۔ غیر حاضر اراکین کو واپس بلانے کے لیے گھنٹیاں بجائی گئیں اور حکومتی اراکین سہیل آفریدی کے لیے مختص لابی نمبر ایک میں جمع ہوئے۔ اپوزیشن ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

تحریک انصاف کے نامزد امیدوار سہیل آفریدی نے 90 ووٹ حاصل کر کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔ پی ٹی آئی کے رکن آصف محسود بیرون ملک ہونے کی وجہ سے انتخاب میں شامل نہیں ہو سکے۔ اپوزیشن امیدواروں کو ووٹ نہ مل سکا۔

نتیجے کے بعد حکومتی اراکین نے نومنتخب وزیراعلیٰ کو گلے لگا کر مبارکباد دی۔ اسپیکر نے کہا کہ عہدے خواہش پر نہیں بلکہ آئین کے مطابق ملتے ہیں اور انہوں نے پاکستان آرمی کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا