کراچی سمیت سندھ بھر میں ٹی ایل پی مظاہرے، ٹریفک جام،دفعہ 144 نافذ

0
298

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد پیر کے روز کراچی کے مختلف علاقوں میں پارٹی کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے، جن سے ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

نالہ اسٹاپ اور نارتھ کراچی کی 4K چورنگی پر کارکنوں نے سڑکیں بلاک کر کے پتھراؤ کیا، جس سے گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور ٹریفک کئی گھنٹوں تک جام رہی۔ متعدد مقامات پر مسافروں کی گاڑیاں پھنسی رہیں اور تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

پولیس کی بھاری نفری کو امن و امان کی بحالی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے تعینات کیا گیا۔ حکام کے مطابق شرپسند عناصر کی نشاندہی کی جارہی ہے اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سے قبل سندھ حکومت نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر احتجاج، ریلیوں، دھرنوں اور جلسوں پر ایک ماہ کیلئے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ صوبے میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت پانچ سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہے۔

یہ فیصلہ آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی سفارش پر کیا گیا تھا، جنہوں نے مختلف اضلاع اور زونز کی سیکیورٹی رپورٹس کی روشنی میں فوری اقدامات کی تجویز دی تھی۔

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا