افغان سرزمین سے دہشت گردی تشویشناک، غیر قانونی مہاجرین کی واپسی تیز کی جائے: وزیراعظم

0
342

اسلام آباد — وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملے اور ان حملوں میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا نہایت تشویشناک ہے۔

افغان پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس وزیراعظم کی زیر صدارت ہوا، جس میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی نمائندگی کرنے والے وزرائے اعلیٰ اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی عدم شرکت کے باعث ان کی نمائندگی مزمل اسلم نے کی۔

وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ روز انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ٹیلی فونک گفتگو میں مبارکباد دی اور مکمل وفاقی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان نے ہر مشکل وقت میں پاکستان سے تعاون حاصل کیا، جبکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانیں اور اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کیا۔ نائب وزیراعظم، وزیر خارجہ اور وزیر دفاع متعدد بار کابل گئے اور افغان عبوری حکومت سے دہشت گردی اور خوارج کی دراندازی روکنے سے متعلق بات چیت کی گئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستانی عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ غیر قانونی افغان مہاجرین کا بوجھ کب تک اٹھایا جائے گا۔ وفاقی و صوبائی ادارے قریبی رابطے کے ساتھ جلد از جلد افغان باشندوں کی وطن واپسی یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے حالیہ افغان حملے اور پاکستان میں خوارج کی دراندازی کی کوششوں کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بھرپور جواب دیا، جس پر پوری قوم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 16 اکتوبر 2025 تک 14 لاکھ 77 ہزار 592 افغان باشندوں کی واپسی ہو چکی ہے اور کسی کو اضافی مہلت نہیں دی جائے گی۔ صرف وہی افغان شہری پاکستان میں رہ سکیں گے جن کے پاس درست ویزے ہوں گے، جبکہ ایگزٹ پوائنٹس کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے۔

غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کو پناہ دینا یا گیسٹ ہاؤسز میں رکھنے کو جرم قرار دیا گیا ہے، اور نشاندہی کا عمل جاری ہے۔ واپسی کے عمل میں عوام کو بھی شامل کیا جائے گا اور حکومتی پالیسی کی خلاف ورزی برداشت نہیں ہوگی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وطن واپسی کے دوران بزرگوں، خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے ساتھ باعزت سلوک کیا جائے۔ اجلاس کے شرکا نے سفارتی کامیابیوں اور وزیراعظم و آرمی چیف کے کردار کو سراہا اور سفارشات پر سختی سے عملدرآمد پر اتفاق کیا۔

آخر میں وزیراعظم نے صوبوں سے اپیل کی کہ افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے عمل میں مکمل تعاون فراہم کریں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا