عالمی سیاست میں پاکستان کی نئی اہمیت — واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور انقرہ کے درمیان بڑھتا کردار

0
2
سندر شعیب ایڈووکیٹ

ملک سندر شعیب

عالمی سیاست تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں بڑی طاقتوں کے درمیان روایتی اتحادوں کے بجائے مفادات، جغرافیہ، دفاعی ضرورت اور معاشی شراکت داری نئی صف بندیوں کی بنیاد بن رہے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنے حالیہ تجزیے میں پاکستان کو بدلتے عالمی نظام میں ایک ’’ہنج پاور‘‘ قرار دیا ہے، یعنی ایسی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت رکھنے والی ریاست جو مختلف طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان نے گزشتہ چند ماہ کے دوران اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ فعال بنانے کی کوشش کی ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ، امریکا، چین اور ایران کے ساتھ بیک وقت تعلقات برقرار رکھنا اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بھی اسے غیر معمولی اہمیت دیتی ہے کیونکہ یہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، خلیج اور چین کے درمیان ایک اہم رابطے کے طور پر موجود ہے۔

مکہ معاہدہ اور نئی دفاعی صف بندی

پاکستان کی عالمی اہمیت میں تازہ ترین اضافہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے سے ہوا ہے۔ 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ Reuters کے مطابق معاہدے میں باہمی دفاع کا اصول شامل ہے، اگرچہ اس کے عملی دفاعی تقاضوں کی تمام تفصیلات عوامی سطح پر واضح نہیں کی گئیں۔ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بعد میں اس معاہدے کو NATO کے آرٹیکل 5 سے تکنیکی طور پر مماثل قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف نہیں ہے۔ ترکیہ نے مستقبل میں اس تعاون کو مزید وسعت دینے اور دوسرے ممالک کی شمولیت کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔یہ پیش رفت اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ پاکستان ایک ایسے دفاعی فریم ورک میں مرکزی فریق بن گیا ہے جس میں ایک طرف سعودی عرب کی معاشی اور مذہبی اہمیت ہے، دوسری طرف ترکیہ کی فوجی اور صنعتی صلاحیت، جبکہ پاکستان جوہری طاقت اور بڑی مسلح افواج رکھنے والی ریاست کی حیثیت سے اس اتحاد کو ایک منفرد عسکری وزن فراہم کرتا ہے۔

امریکا کا ردعمل بھی اہم

اس معاہدے کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو ایک ’’بڑا اور اہم قدم‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اس نئی صف بندی کو فوری طور پر اپنے مفادات کے خلاف محاذ کے طور پر نہیں دیکھ رہا۔یہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی موقع ہے۔ ماضی میں اسلام آباد کو اکثر واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات میں کسی ایک طرف جھکاؤ کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں پاکستان بیک وقت امریکا، چین، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔یہ حکمت عملی آسان نہیں۔ امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت پاکستان کے لیے سفارتی توازن برقرار رکھنے کا امتحان ہے۔ تاہم پاکستان کی موجودہ پوزیشن یہ بتاتی ہے کہ اسلام آباد کسی ایک عالمی بلاک کا مکمل حصہ بننے کے بجائے مختلف طاقتوں کے ساتھ اپنے مفادات کی بنیاد پر تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔

چین کے ساتھ تعلقات بھی بنیادی ستون

پاکستان اور چین کے تعلقات اس نئی خارجہ پالیسی میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری، گوادر اور خطے میں چین کی وسیع تر معاشی حکمت عملی پاکستان کو بیجنگ کے لیے ایک اہم شراکت دار بناتی ہے۔دوسری طرف امریکا بھی پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ افغانستان، وسطی ایشیا، خلیجی خطے، انسداد دہشت گردی اور جنوبی ایشیا کی سکیورٹی میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت واشنگٹن کے لیے اب بھی برقرار ہے۔اسی وجہ سے پاکستان کے لیے اصل کامیابی یہ ہوگی کہ وہ امریکا اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے مقابلے کو اپنے خلاف دباؤ میں تبدیل ہونے کے بجائے معاشی اور سفارتی مواقع میں تبدیل کرسکے۔

بھارت کے لیے نئی صورتحال

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے نے بھارت میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔ فرانسیسی اخبار Le Monde نے تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ معاہدہ خطے کے توازن کو نئی سمت دے سکتا ہے اور نئی دہلی کے لیے اس کے اسٹریٹجک اثرات اہم ہوسکتے ہیں۔چینی زبان کے عالمی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ نیا دفاعی معاہدہ مستقبل میں کسی ’’اسلامی NATO‘‘ کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ اگرچہ فی الحال اسے NATO کے متبادل کے طور پر دیکھنا قبل از وقت ہوگا، تاہم یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ تین اہم مسلم ممالک نے دفاعی تعاون کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینے کی طرف قدم بڑھایا ہے۔پاکستان کے لیے اس صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اپنے روایتی تنازع کے باوجود ایک وسیع تر علاقائی سفارتی کردار حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

کشمیر کا معاملہ پھر عالمی توجہ میں

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے کشمیر اب بھی بنیادی مسئلہ ہے۔ حالیہ ہفتوں میں امریکی سفارتی بیانات اور کشمیر سے متعلق سرگرمیوں نے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان حساسیت کو بڑھایا ہے۔یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان ایک طرف امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کررہا ہے، جبکہ دوسری طرف کشمیر کے معاملے پر اپنے دیرینہ مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔اس صورتحال میں پاکستان کے لیے سفارتی چیلنج یہ ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات خراب کیے بغیر کشمیر پر اپنے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرے۔

ایران کے ساتھ توازن

پاکستان کے لیے سب سے پیچیدہ سفارتی امتحان ایران کے حوالے سے ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنے کے باوجود اسلام آباد کے لیے ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایران نے اس معاہدے پر فوری طور پر شدید ردعمل دینے کے بجائے کہا کہ اسے اس معاہدے سے خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اور تہران اسے اپنے خلاف سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔یہ پاکستان کی سفارت کاری کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اگر اسلام آباد ریاض، انقرہ اور تہران کے ساتھ بیک وقت قابل عمل تعلقات برقرار رکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پاکستان خطے میں محض ایک فریق کے بجائے ثالث اور رابطہ کار کا کردار بھی ادا کرسکتا ہے۔

افغانستان ایک بڑا چیلنج

تاہم پاکستان کی عالمی سفارتی اہمیت کے ساتھ داخلی اور علاقائی مسائل بھی موجود ہیں۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی، سرحدی سکیورٹی، دہشت گردی اور بلوچستان کی صورتحال پاکستان کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔عالمی سطح پر پاکستان کا امیج صرف دفاعی معاہدوں اور سفارتی سرگرمیوں سے نہیں بنے گا۔ عالمی طاقتیں یہ بھی دیکھیں گی کہ پاکستان اپنے داخلی سیاسی اختلافات، معاشی مسائل، دہشت گردی اور حکمرانی کے مسائل کو کس حد تک حل کرسکتا ہے۔

عمران خان کا معاملہ اور داخلی سیاست

پاکستان کی عالمی تصویر پر داخلی سیاسی صورتحال بھی اثرانداز ہورہی ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل سے اسپتال منتقلی کا معاملہ عالمی میڈیا میں نمایاں رہا ہے۔ Reuters کے مطابق سپریم کورٹ نے عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا، جبکہ حکومت نے بعد میں اس فیصلے کو چیلنج کردیا۔20 اگست کو Reuters نے عمران خان کے قریبی ساتھی کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ اگر انہیں رہا کیا جاتا ہے تو وہ فوجی قیادت کے ساتھ تصادم کے بجائے قومی مفاہمت کو ترجیح دے سکتے ہیں۔یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کی داخلی سیاست ابھی بھی عالمی میڈیا کی توجہ کا اہم مرکز ہے۔ خارجی سطح پر بڑھتی سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ اگر داخلی سیاسی استحکام پیدا ہوجائے تو پاکستان کی عالمی پوزیشن مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔

اصل امتحان معیشت ہے

پاکستان کے لیے سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل اہمیت کو معاشی فوائد میں کس طرح تبدیل کیا جائے۔دفاعی معاہدے، سفارتی روابط اور عالمی طاقتوں کی دلچسپی اپنی جگہ، لیکن پاکستان کو طویل المدت بنیادوں پر سرمایہ کاری، برآمدات، صنعتی پیداوار، ٹیکنالوجی، توانائی اور روزگار میں بہتری درکار ہے۔اگر پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت کو تجارتی راہداری، توانائی کے منصوبوں، علاقائی تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتا ہے تو موجودہ سفارتی ماحول معاشی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے نیا موقع

عالمی میڈیا کی حالیہ کوریج کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو ایک واضح رجحان سامنے آتا ہے: پاکستان اب صرف جنوبی ایشیا کے بھارت-پاکستان تنازعے کے تناظر میں عالمی خبروں کا موضوع نہیں رہا بلکہ خلیج، وسطی ایشیا، چین، امریکا، ترکیہ اور ایران کے درمیان بدلتی ہوئی جیوپولیٹکس میں بھی اس کا کردار زیر بحث ہے۔فنانشل ٹائمز کا ’’ہنج پاور‘‘ کا تصور اسی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔لیکن اس نئی اہمیت کو مستقل قومی طاقت میں تبدیل کرنا پاکستان کی اپنی پالیسیوں پر منحصر ہوگا۔ عالمی طاقتیں پاکستان کو اہم سمجھ سکتی ہیں، مگر عالمی سطح پر مستقل اثر و رسوخ اسی وقت حاصل ہوگا جب پاکستان اندرونی سیاسی استحکام، مضبوط معیشت، قانون کی حکمرانی اور مؤثر سفارت کاری کو ایک ساتھ آگے بڑھائے۔پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال ایک غیر معمولی موقع بھی ہے اور بڑا امتحان بھی۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون، امریکا اور چین کے ساتھ تعلقات، ایران کے ساتھ سفارتی توازن اور کشمیر پر مستقل مؤقف اسلام آباد کو ایک پیچیدہ مگر اہم سفارتی راستہ فراہم کرتے ہیں۔اگر پاکستان نے اس موقع کو دانشمندانہ انداز میں استعمال کیا تو وہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں محض کسی بڑی طاقت کا اتحادی نہیں بلکہ اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرنے والی ایک بااثر علاقائی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا