پنجاب حکومت نے صوبے میں مافیا کلچر، ڈالا کلچر اور بدمعاشی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق تیسرے مسلسل غیر معمولی اجلاس میں ریاستی رٹ اور قانون کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے متعدد فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں طے پایا کہ صوبے میں لاؤڈ اسپیکر ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا اور ہر ضلع میں وسل بلور سیل قائم کیا جائے گا۔ پنجاب پولیس کی ہیلپ لائن 15 پر خصوصی سیل بھی قائم کر دیا گیا ہے جہاں شہری انتہا پسند جماعتوں یا غیر قانونی مقیم افراد کی اطلاع دے سکیں گے۔
حکومت نے واضح کیا کہ صوبے میں ڈالا کلچر، بدمعاشی اور مافیا کلچر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں صوبے کو غیر قانونی اسلحے سے پاک کرنے کے لیے کارروائیاں تیز کرنے اور امن کمیٹیوں کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ “ریاست عوام کی چوکھٹ پر” کے وژن کے تحت موبائل پولیس اسٹیشنز کے ذریعے ہر شہری کے دروازے تک پولیس خدمات پہنچائی جائیں گی۔
اجلاس میں یہ بھی طے ہوا کہ تمام اضلاع کی انتظامیہ روزانہ کی بنیاد پر غیر قانونی بین الاقوامی رہائشیوں کے خلاف کارروائیوں کی رپورٹ پیش کرے گی۔ ان افراد کو کاروبار یا رہائش کی اجازت دینے والوں کے خلاف کرایہ داری اور پاسپورٹ ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی۔
پنجاب حکومت نے واضح کیا کہ کومبنگ آپریشنز صرف مخصوص انتہا پسند ذہنیت کے خلاف ہیں، کسی مذہبی یا فرقہ وارانہ بنیاد پر نہیں۔ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے، جب کہ غیر قانونی اجتماعات یا کاروبار بند کرانے والوں پر دہشت گردی کے قوانین لاگو ہوں گے۔






