شکارپور: 72 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے

0
1128

شکارپور پولیس لائن میں سندھ حکومت کی سرینڈر پالیسی 2025 کے تحت تقریب منعقد ہوئی، جس میں کچے کے 72 ڈاکوؤں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

تقریب میں ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں کی جانب سے جدید اسلحہ بھی جمع کرایا گیا، جس میں کلاشنکوف، راکٹ لانچر، اینٹی ایئرکرافٹ گن سمیت دیگر بھاری ہتھیار شامل تھے۔

پولیس کے مطابق ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں کے سروں کی مجموعی قیمت 6 کروڑ روپے سے زائد تھی۔ بدنام زمانہ نثار سبزوئی کے خلاف 82 مقدمات درج تھے اور اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی۔ لادو تیغانی پر 93 ایف آئی آرز جب کہ سر کی قیمت 20 لاکھ روپے رکھی گئی تھی۔ سوکھیو تیغانی کے خلاف 49 مقدمات اور 60 لاکھ روپے انعام مقرر تھا۔ سونارو تیغانی کے خلاف 26 مقدمات اور 60 لاکھ روپے انعام، جب کہ جمعو تیغانی، ملن تیغانی، گلزار بھورو اور دیگر کے خلاف بھی درجنوں مقدمات درج تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے کہا کہ پولیس اور رینجرز کو واضح پالیسی دی گئی ہے کہ علاقے میں امن بحال ہو اور ڈاکو ہتھیار ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ برادریوں کے سربراہوں کے تعاون کے بغیر یہ ممکن نہ تھا، اور سرینڈر کرنے والوں کو اچھا شہری بننے کا موقع دیا جائے گا۔

ضیا لنجار نے کہا کہ ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں کو قانون کا سامنا کرنا ہوگا، حکومت چاہتی ہے کہ وہ پرامن شہری بنیں، اب کسی قسم کی ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ نہیں ہوگی، اور سرینڈر کرنے والوں سے قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ سندھ حکومت کچے کے علاقوں میں ترقیاتی منصوبے، روزگار، تعلیم اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کارڈز فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

اس موقع پر آئی جی سندھ نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے، تاہم گھوٹکی کے کچے کا علاقہ اب بھی مکمل طور پر کلیئر نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 2012 میں شروع ہونے والی ہنی ٹریپ کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا