پاکستانی ادویات کی برآمدات 30 ارب ڈالر تک پہنچائیں گے:حکومت کا ہدف

0
323

کراچی: کراچی کے ایکسپو سینٹر میں ہیلتھ ایشیا 2025 نمائش کی تقریب جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے، جس میں 50 ممالک کی سیکڑوں کمپنیاں اور ادارے شریک ہیں۔

نمائش کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان صحت کے شعبے میں جدت کی جانب گامزن ہے اور ملک میں سب سے زیادہ پوٹینشل فارماسیوٹیکل میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکل آنے والے وقت میں معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنے گی، اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کا صنعتی شعبے کے ساتھ بے مثال تعلق ہے۔ وزیر صحت نے ہدف مقرر کیا کہ آنے والے سالوں میں ادویات اور طبی آلات کی برآمدات 30 ارب ڈالر تک پہنچائی جائیں گی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان ہر سال 50 کروڑ ڈالر کی ویکسین امپورٹ کرتا ہے، اور یہ ویکسینز 99.99 فیصد دشمن ملک سے آتی تھیں، جس نے جنگ کے بعد ویکسین اور ادویات فراہم کرنا بند کر دی تھیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 22 ہزار ڈاکٹر تیار ہوتے ہیں، جو دنیا میں مہارت کی بنا پر مشہور ہیں، اور اس تعداد کو مزید بڑھایا جائے گا۔ دنیا کو 25 لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے، اور نرسنگ کونسل کو ری ویمپ کر کے نرسز کی تیاری میں اضافہ کیا جائے گا۔

ہیلتھ انشورنس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 210 ارب روپے کے ذریعے پاکستان کے ہر شہری کو ہیلتھ انشورنس فراہم کی جا سکتی ہے، اور دس سال میں سرکاری ہسپتالوں کا تصور ختم کیا جا سکتا ہے۔ بیماریوں پر بڑھتے ہوئے اخراجات سے غربت بڑھ رہی ہے، اور اسی تناظر میں ہیلتھ انشورنس کے منصوبے پر کام جاری ہے۔

وزیر صحت نے ویکسین کے حوالے سے عوامی تصورات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین کا شرح آبادی کم کرنے سے کوئی تعلق نہیں، اور سروائیکل کینسر کی ویکسین دنیا کے 150 ممالک میں لگائی جا رہی ہے۔ بیس سال بعد پاکستان میں ویکسین آئی تو اعتراضات سامنے آئے، حالانکہ ویکسین لگانے سے بڑی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا