لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ جلد تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی لگ جائے گی اور ہڑتال کے نام پر دکانیں یا ٹرانسپورٹ بند کرانا قطعی ناقابل قبول ہے۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے مارکیٹ بند کرانے یا ٹرانسپورٹ روکنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی اور دہشتگردی کے مقدمات قائم کیے جائیں گے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ چندے کی تمام چیزیں مذہبی جماعت کے گھر پہنچتی تھیں، سعد رضوی اور جماعت کے ذمہ دار پرتشدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ والدین اپنے بچوں کو ٹی ایل پی کی سرگرمیوں سے دور رکھیں، ورنہ ان پر بھی دہشت گردی کا مقدمہ قائم ہو سکتا ہے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ جماعت کے اکاؤنٹس فریز ہیں اور کوئی بھی فنڈنگ نہیں ہو رہی۔ احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا گیا، گاڑیاں چھینی گئیں اور شہری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کسی بھی طرح کا نیا اسلحہ لائسنس جاری نہیں ہوگا اور صوبے کو اسلحہ سے پاک کرنے کا عزم جاری ہے۔ 511 اسلحہ ڈیلرز نے لائسنس کی توثیق کے لیے درخواست دی، جبکہ 90 ڈیلرز کے کاغذات کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ انتہاپسند جتھوں کی تشہیر پر مکمل پابندی ہے، پوسٹرز اور وال چاکنگ ہٹائی جا رہی ہے، مساجد میں نماز جمعہ معمول کے مطابق ہوگی اور کسی بھی زبردستی یا اشتعال انگیزی پر قانون حرکت میں آئے گا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے موبائل پولیس اسٹیشنز کا آغاز کیا ہے، جو مرحلہ وار پنجاب کے تمام اضلاع میں شہریوں کو فوری انصاف کی سہولت فراہم کریں گے۔ امن کمیٹیاں بھی فعال کی جا رہی ہیں تاکہ مقامی سطح پر امن و امان برقرار رہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پنجاب میں غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کومبنگ آپریشنز جاری ہیں، اور خصوصی مراکز میں انہیں باعزت طریقے سے منتقل کیا جائے گا۔ غیر قانونی غیر ملکی اکثر کاروبار کرتے ہیں مگر ٹیکس ادا نہیں کرتے، ان کے خلاف معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے انتباہ کیا کہ ریاست سے ٹکرانے والے عناصر قانون اور آئین سے بالا تر نہیں ہیں، اور کسی کو بھی شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔






