اسرائیلی فوج میں جبری بھرتیوں کیخلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

0
550

اسرائیل میں فوج میں جبری بھرتیوں کے خلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ یروشلم کی مرکزی شاہراہیں شدید احتجاج کے باعث مکمل طور پر جام ہو گئیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ اسرائیل کی تاریخ کے بڑے مظاہروں میں سے ایک تھا، جس میں تقریباً دو لاکھ الٹرا آرتھوڈوکس (حریدی) یہودی شریک ہوئے۔

مظاہرین نے جبری فوجی بھرتی اور حالیہ 870 گرفتاریوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور شہر کے داخلی راستے بند کر دیے۔ اس دوران 20 سالہ نوجوان زیر تعمیر عمارت سے گر کر ہلاک ہوگیا، جس کے بعد مظاہرہ ختم کرنے کا اعلان کیا گیا، تاہم کئی نوجوان پولیس سے جھڑپ کرتے رہے۔

پرتشدد واقعات میں مشتعل مظاہرین نے صحافیوں پر پانی کی بوتلیں اور ڈنڈے پھینکے اور ایک خاتون رپورٹر کو نشانہ بنانے کی کوشش بھی کی، جس پر پولیس کو متعدد صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنا پڑا۔

یہ مظاہرے اس حکومتی فیصلے کے خلاف شروع ہوئے جس کے تحت حریدی نوجوانوں کو بھی فوجی سروس میں شامل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ماضی میں یشیوا (دینی مدرسوں) کے طلبہ کو فوج سے استثنا حاصل تھا جو 2023 میں قانون کی مدت ختم ہونے کے بعد ختم ہوگیا تھا۔

عدالت کے حکم کے بعد حکومت نے بھرتی کا عمل شروع کیا تو مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈائزم نے سخت ردعمل دیا۔ مظاہروں کے دوران ٹریفک جام، ٹرین اسٹیشن کی بندش اور پولیس بسوں سے زخمی ہونے کے واقعات بھی پیش آئے، جن میں ایک زخمی بعد میں دم توڑ گیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا