پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ نے جگر کے 1000 کامیاب ٹرانسپلانٹس مکمل کرکے عالمی ٹرانسپلانٹ مراکز کی صف میں جگہ بنا لی ہے۔ ادارہ 2017 میں قائم ہوا تھا اور اب تک 40 لاکھ سے زائد مریض علاج کی سہولیات سے مستفید ہو چکے ہیں، جن میں 80 فیصد کو عالمی معیار کے مطابق مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق میں اب تک 1100 گردے اور 14 بون میرو ٹرانسپلانٹس بھی کیے جا چکے ہیں۔ ماضی میں سیاسی مسائل کے باعث ادارے کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی، لیکن 2022 کے بعد فنڈز کی بحالی سے ٹرانسپلانٹس کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نے بیرونِ ملک مہنگے علاج کی ضرورت کم کرکے اربوں روپے کے زرمبادلہ کی بچت ممکن بنائی ہے۔ یہ ادارہ ٹرانسپلانٹ کے ساتھ یورالوجی، گیسٹروانٹرولوجی، نیفرو لوجی اور جدید سرجریز میں بھی عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سنگ میل عبور کرنے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ اب ایک اسپتال نہیں بلکہ قومی وقار اور خدمتِ انسانیت کی علامت بن چکا ہے۔






