آلودہ پانی کیس: خانپور ڈیم کی صورتحال پر سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس

0
389

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے خانپور ڈیم سے آلودہ پانی کی فراہمی سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کر دیا۔

آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران واپڈا کے وکیل احسن رضا کا مؤقف سنا، جنہوں نے بتایا کہ خانپور ڈیم تقریباً پانچ ملین افراد کے لیے پانی کا واحد ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹو ضلعی انتظامیہ سہولت کاری فراہم کر رہی ہے، اور جہاں پہلے صرف 20 کشتیاں چلتی تھیں، اب 326 کشتیاں ڈیم میں چل رہی ہیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پی ایچ اے بھی اس حوالے سے قواعد و ضوابط طے کر سکتی ہے۔ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ڈیم انتظامیہ کے پاس اختیار ہے کہ وہ موٹر بوٹس پر پابندی عائد کرے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ متعدد افراد بوٹنگ سے آمدنی حاصل کر رہے ہیں اور ڈیم کے اطراف 6 ریزورٹس بھی قائم کر لیے گئے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ انتظامیہ کی اجازت کے بغیر اتنی زیادہ کشتیاں کیسے چل رہی ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ہم نے اس حوالے سے مجسٹریٹ کے سامنے بھی درخواست دی تھی، لیکن خانپور تحصیل بننے کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔

جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر موٹر بوٹس آلودگی کا باعث بنتی ہیں تو متبادل کیا ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ الیکٹرک کشتیاں دستیاب ہیں، جو آلودگی نہیں پھیلاتیں۔

بعد ازاں عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا