پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں مذاکرات کا دوسرا دور کل

0
444

اسلام آباد (ویب ڈیسک) — پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کل شیڈول کے مطابق استنبول میں ہوگا، جہاں پاکستان افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے پر زور دے گا۔

ذرائع کے مطابق استنبول مذاکرات کے دوسرے دور میں فریقین کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔ افغان طالبان کے وفد میں سینئر وزیر کی موجودگی کی صورت میں وزیر دفاع خواجہ آصف بھی استنبول روانہ ہوں گے، جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت کا حتمی فیصلہ افغان وفد کی قیادت دیکھ کر کیا جائے گا۔ قومی سلامتی کے مشیر بھی پاکستانی وفد میں شامل ہوں گے۔

پاکستان کی جانب سے واضح پیغام دیا جائے گا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان نے ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں استنبول میں ہونے والے پہلے مذاکرات میں جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔ فریقین نے سیز فائر برقرار رکھنے اور امن کی نگرانی کے لیے ایک تصدیقی نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جو جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار فریق پر جرمانہ عائد کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی تھی جب 11 اکتوبر کی رات افغانستان کی جانب سے پاکستانی سرحد پر حملے کیے گئے۔ بعد ازاں 19 اکتوبر کو دوحہ میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا، جس کے بعد ترکیہ اور قطر کی کوششوں سے فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے۔

استنبول مذاکرات کے دوسرے دور میں جنگ بندی کے حتمی قواعد و ضوابط طے کیے جانے کا امکان ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ استنبول میں پہلے مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ فریقین نے جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق کیا ہے۔ جنگ بندی کے نفاذ کے قواعد و ضوابط 6 نومبر سے استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں طے کیے جائیں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا