۔27ویں آئینی ترمیم پر سیاسی رابطوں میں تیزی، وزیراعظم کی اتحادیوں سے ملاقاتیں آج ہوں گی

0
421

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف آج 27ویں آئینی ترمیم کے سلسلے میں اتحادی جماعتوں کے وفود سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ایم کیو ایم کا وفد دوپہر 12 بجے وزیراعظم سے ملاقات کرے گا۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم وفد مقامی حکومتوں سے متعلق مجوزہ آئینی ترامیم پر وزیراعظم کو بریفنگ دے گا اور ان ترامیم کی منظوری کی سفارش پیش کرے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اتحادی جماعتوں کو 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر اعتماد میں لیں گے، جبکہ اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ترمیم کے نکات پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔ ملاقات میں پاک افغان صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیے جانے کا امکان ہے۔

دوسری جانب 27ویں آئینی ترمیم پر پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آج کراچی میں ہوگا، جس میں حکومتی ڈرافٹ پر پارٹی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو ترمیم کے حوالے سے 5 بڑے تحفظات ہیں۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ صوبوں کے مالیاتی حصے کو 57 فیصد سے کم نہ کیا جائے، صوبائی خودمختاری متاثر نہیں ہونی چاہیے، جبکہ ملک بھر میں یکساں نصاب کی تجویز بھی قابل قبول نہیں۔

ادھر اپوزیشن بھی سرگرم ہے۔ نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، اسد قیصر اور علامہ راجہ ناصر عباس نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، جس میں 27ویں آئینی ترمیم پر اپوزیشن کے مشترکہ مؤقف اور اتحاد کو مستحکم کرنے پر مشاورت کی گئی۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 336 کے ایوان میں موجود 326 اراکین میں سے کم از کم 224 ووٹ درکار ہیں۔ حکومتی اتحاد کو اس وقت پیپلز پارٹی سمیت 237 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

حکومتی اتحاد میں مسلم لیگ ن 125 اراکین کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے۔ پیپلز پارٹی کے 74، ایم کیو ایم کے 22، ق لیگ کے 5، آئی پی پی کے 4، اور مسلم لیگ ضیاء، بی اے پی، نیشنل پارٹی کے ایک ایک رکن شامل ہیں۔ چار آزاد اراکین بھی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

دوسری طرف قومی اسمبلی میں اپوزیشن اراکین کی تعداد 89 ہے، جن میں 75 آزاد، جے یو آئی ف کے 10، اور سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت المسلمین، بی این پی مینگل اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن شامل ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا