دفتر خارجہ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ہندو برادری کے کچھ افراد کو مذہبی بنیادوں پر پاکستان میں داخلے سے روکا گیا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ کارروائی مکمل طور پر انتظامی نوعیت کی تھی اور یہ اقدام پاکستان کے اپنے سرحدی نظم و نسق کے تحت کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بابا گرو نانک کے 556ویں جنم دن کی تقریبات کے لیے بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کو 2,400 سے زائد ویزے جاری کیے۔ 4 نومبر کو 1,932 یاتری اٹاری-واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان پہنچے، جبکہ تقریباً 300 ویزا ہولڈرز کو بھارتی حکام نے سرحد پار کرنے سے روکا۔
بیان میں کہا گیا کہ چند افراد کے دستاویزات نامکمل تھے اور وہ امیگریشن حکام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے، جس پر انہیں معمول کے مطابق بھارت واپس جانے کی درخواست کی گئی۔ دفتر خارجہ نے مذہبی بنیادوں پر داخلہ روکنے کے دعوے کو غلط اور گمراہ کن قرار دیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ تمام مذاہب کے زائرین کو ان کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے خوش آمدید کہتا ہے۔ معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے اور یہ ذہنیت بھارت کے سرکاری اور میڈیا بیانیے میں بڑھتی ہوئی تعصب کی عکاسی کرتی ہے۔






