خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی ایک بار پھر اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات نہ کر سکے۔ آج ہونے والی یہ ان کی پانچویں ناکام کوشش تھی۔ آفریدی نے بتایا کہ عدالتی حکم موجود ہونے کے باوجود انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کی کوشش کی لیکن ڈیڑھ گھنٹے انتظار کے باوجود ملاقات نہ ہو سکی۔ بعد ازاں وہ اڈیالہ جیل پہنچے، مگر وہاں بھی رسائی دینے سے انکار کر دیا گیا۔
سہیل آفریدی نے شکوہ کیا کہ کچھ لوگ اداروں سے زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں اور جیل انتظامیہ یہی کہتی ہے کہ جب تک ’اوپر سے‘ حکم نہ آئے، ملاقات نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان سے ملاقات کے لئے تمام آئینی و قانونی راستے استعمال کریں گے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کیا، جہاں ’عدلیہ کو آزاد کرو‘ اور ’عمران خان کو آزاد کرو‘ کے نعرے لگائے گئے۔ پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عدالت کے احکامات پر مکمل عمل درآمد کرایا جائے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق وہ عدالت سے اس معاملے پر کیسز کے جلد تعین کا مطالبہ کرنے آئے تھے اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ عدالتی احکامات پر عمل کون روک رہا ہے۔






