وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ کل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ترمیم میں 18ویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوئی بات شامل نہیں اور اس حوالے سے پھیلنے والا تاثر درست نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مسودے پر پہلے مشترکہ کمیٹی میں تفصیلی بحث ہوگی، جس کے بعد یہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ طارق فضل چودھری نے امید ظاہر کی کہ ترمیم باآسانی منظور ہو جائے گی۔
ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے کچھ تحفظات موجود ہیں، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ تمام فیصلے مشاورت سے کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی اور دیگر نکات پر بھی اتفاق رائے کی کوشش جاری ہے اور چند نکات کے سوا کوئی بڑا اختلاف نہیں۔
وزیر نے بتایا کہ وزیر اعظم کی اتحادی جماعتوں سے ملاقاتیں مثبت رہیں، ایم کیو ایم، نیشنل پارٹی اور دیگر اتحادیوں نے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے جبکہ پیپلز پارٹی سے ہونے والی مشاورت میں بھی حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ معاملہ کمیٹی میں آنے کے بعد تمام جماعتوں سے مشاورت مکمل کر لی جائے گی۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو بھی آن بورڈ لیا جائے گا، اور امید ہے کہ وہ اس ترمیم میں بھی تعاون کریں گے جیسا کہ 26ویں ترمیم کے وقت کیا تھا۔






