تین ماہ کے لیے بجلی کی قیمت میں 45 پیسے اضافے کا امکان ہے۔ نیپرا میں ڈسکوز اور کے الیکٹرک کی پہلی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں وفاقی حکومت نے 45 پیسے فی یونٹ اضافہ کرنے کی سفارش کی۔
ڈسکوز نے پہلی سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 8 ارب 41 کروڑ روپے مانگے ہیں۔ سماعت کے دوران صارفین نے اعتراض اٹھایا کہ وزیر اعظم نے تین ماہ کے لیے بجلی 7 روپے 41 پیسے سستی کی ہے جبکہ گردشی قرض مسلسل بڑھ رہا ہے۔ صارفین نے سوال کیا کہ زرعی اور صنعتی پیکیج کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا یا نہیں۔
نیپرا کے ممبر رفیق شیخ نے کہا کہ موجودہ ڈھانچے کے ساتھ پاور سیکٹر سے گردشی قرض ختم ہونا ممکن نہیں۔ صنعتی صارفین نے بتایا کہ وہ پہلے ہی گردشی قرض پر 3 روپے 23 پیسے سرچارج ادا کر رہے ہیں اور بینکوں سے لیے گئے نئے قرضوں پر بھی سرچارج لگایا جا رہا ہے۔
اتھارٹی نے کہا کہ ڈسکوز میں نقصانات اور کم ریکوری کی وجہ سے گردشی قرض بڑھ رہا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق اضافی نقصانات اور کم وصولیوں نے مالی خسارے میں اضافہ کیا ہے۔
نیپرا نے سماعت مکمل کرلی ہے اور اعداد و شمار کی جانچ کے بعد اپنا فیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوائے گی۔






