اسلام آباد میں پاکستان اور ترکیے کی وزارتِ داخلہ نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے انسداد دہشت گردی، منشیات، انسانی اسمگلنگ، بارڈر سیکیورٹی، سائبر کرائم، کوسٹ گارڈ اور پولیس کے شعبوں میں تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو سال میں چار بار اجلاس کرے گا۔
ترکیے کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک نے انسداد دہشت گردی میں تعاون بڑھانے پر زور دیا اور امیگریشن، منشیات کی روک تھام اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا۔ ترکی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی ترکیے کی سیکیورٹی سے علیحدہ نہیں اور پاکستان کے کردار کو سراہا۔
پاکستان نے انٹرپول انتخابات میں ترکیے کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برس میں پاکستان سے ترکیے کو منشیات اسمگلنگ کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
بعد ازاں ترک وزیر داخلہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور ترکیے کی جانب سے پاکستان کے مؤقف کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ ملاقات میں سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی، پولیس ٹریننگ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور اقتصادی تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔
ترک وزیر نے پاکستانی قیادت کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔






