اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان سے استنبول میں مذاکرات جاری ہیں اور سوشل میڈیا پر جاری کسی غیر مصدقہ بیان پر توجہ نہ دی جائے۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ پاکستان کا مؤقف واضح اور دوٹوک ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ثالث ممالک کو شواہد کے ساتھ اپنے مطالبات پیش کر دیے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ثالث افغان طالبان کے ساتھ پاکستان کے مطالبات پر نکتہ بہ نکتہ بات چیت کر رہے ہیں اور انہوں نے پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کی ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں، کیونکہ پانی پاکستان کے لیے بقا کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت کرتا ہے۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ اسرائیلی افواج فلسطینی علاقوں سے فوری انخلا کریں۔ غزہ امن منصوبہ پائیدار حل کی جانب اہم قدم ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام بھارتی سرپرستی میں جاری ریاستی دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے دوحہ کانفرنس سے کلیدی خطاب میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف آذربائیجان کے دورے پر ہیں جہاں وہ باکو میں یومِ فتح کی پانچویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ ترجمان نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات استنبول میں جاری ہیں، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 3 نومبر کو استنبول کا دورہ کرکے مختلف معاملات پر بات چیت کی۔






