این ایف سی ایوارڈ میں گارنٹی دی گئی تھی کہ صوبوں کا حصہ سابقہ حصے سے کم نہیں ہوگا، بیرسٹر گوہر

0
371

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں گارنٹی دی گئی تھی کہ صوبوں کا حصہ سابقہ حصے سے کم نہیں ہوگا۔ عددی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے 74 ارکان کے دستخط کے بعد ہمارا اپوزیشن لیڈر ہونا چاہیے۔

یہ بات انہوں نے پی ٹی آئی وفد کی اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہی۔ ملاقات میں ان کے ساتھ اسد قیصر، جنید اکبر اور عاطف خان بھی موجود تھے۔ ملاقات میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کے عمل پر مشاورت کی گئی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے اسپیکر کو بتایا کہ رولز کے مطابق ریکوزیشن جمع کر دی گئی ہے اور لیڈر آف اپوزیشن ان افراد کا حق ہے جو اپوزیشن بینچز پر بیٹھتے ہیں۔ اسپیکر نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر کا معاملہ عدالت میں زیر غور ہے اور سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس موصول ہوا ہے۔ جیسے ہی سپریم کورٹ سے کاپی موصول ہوگی، تعیناتی کے عمل میں پیش رفت ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم کوشش کریں گے کہ سپریم کورٹ سے کاپی لے کر اسپیکر آفس میں پیر تک جمع کروائی جائے، تاکہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کا عمل مکمل ہو جائے۔

گوہر نے کہا کہ آرٹیکل 243 ان فورسز سے متعلق ہے اور آئین میں ترامیم اتفاق رائے سے ہونی چاہئیں کیونکہ آئین پوری قوم کا دستاویز ہے۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے کہا کہ گارنٹی تھی کہ اس سے وفاق کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوگا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے خیبرپختونخوا ہاؤس میں پولیس تعیناتی کی مذمت کی اور کہا کہ اگر وارنٹ دینے کی ضرورت ہے تو عدالت کے بیلف کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا