مفکر پاکستان شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی 146 ویں سالگرہ آج منائی جا رہی ہے

0
1390

اسلام آباد — مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ہر سال پورے پاکستان میں ان کے یوم پیدائش کو ’یوم اقبال‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔

علامہ اقبال ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، جن کے خواب اور نظریات کے نتیجے میں آج دنیا کے نقشے پر پاکستان کا نام روشن دکھائی دیتا ہے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے سیالکوٹ میں حاصل کی، جہاں جاوید منزل میں تین سال گزارے اور مشن ہائی سکول سے میٹرک، مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ ان کے ابتدائی استاد مولوی میر حسن نے شعر و شاعری کے شوق کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

بعد ازاں، وہ لاہور گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1905ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان روانہ ہوئے اور وہاں قانون کی ڈگری حاصل کی، پھر جرمنی جا کر میونخ یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ابتدا میں وہ اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کرتے رہے، تاہم بعد میں مستقل وکالت اپنائی۔ وکالت کے ساتھ ساتھ انہوں نے شعر و شاعری جاری رکھی اور سیاسی تحریکوں میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ 1922ء میں حکومت کی جانب سے انہیں ’سَر‘ کا خطاب دیا گیا۔

علامہ اقبال آزادی وطن کے علمبردار تھے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ 1930ء میں الہٰ آباد میں ان کا تاریخی صدارتی خطبہ پاکستان کے تصور کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ ان کی تعلیمات اور قائد اعظم محمد علی جناح کی کوششوں سے پاکستان معرضِ وجود میں آیا، لیکن اقبال پاکستان کی آزادی سے پہلے 21 اپریل 1938ء کو وفات پا گئے۔

علامہ اقبال کی شاعری اور فلسفہ ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ رہے گا۔ انہوں نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا۔ ان کی کئی کتابوں کے انگریزی، جرمنی، فرانسیسی، چینی، جاپانی اور دیگر زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ بلاشبہ، علامہ اقبال محض شاعر نہیں بلکہ تاریخ کا ایک مکمل باب ہیں، جس کا احاطہ مختصر تحریر میں کرنا ممکن نہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا