آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں نمبر گیم واضح، حکومت کو دو تہائی اکثریت درکار

0
561
LEAD Technologies Inc. V1.01

اسلام آباد: حکومت کو آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کرانے کے لیے سینیٹ میں 64 جبکہ قومی اسمبلی میں 224 ووٹ درکار ہیں۔ سینیٹ کے 96 رکنی ایوان میں حکومتی اتحاد کی پوزیشن نسبتاً مضبوط ہے۔ پیپلز پارٹی 26 اور مسلم لیگ ن 21 ووٹوں کے ساتھ نمایاں ہیں جبکہ ایم کیو ایم اور اے این پی کے 3، 3 ارکان بھی حکومت کا حصہ ہیں۔ نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ق اور 6 آزاد ارکان کی حمایت کے بعد حکومتی اتحاد کے پاس مجموعی طور پر 65 ارکان موجود ہیں۔

دوسری جانب سینیٹ میں اپوزیشن کے 31 ارکان ہیں جن میں تحریک انصاف کے 22، جے یو آئی کے 7 اور ایم ڈبلیو ایم و سنی اتحاد کونسل کے 1، 1 سینیٹر شامل ہیں۔

قومی اسمبلی میں بھی حکومت کو دو تہائی اکثریت کے لیے سخت محنت درکار ہے۔ مجموعی طور پر 336 نشستوں میں سے 10 نشستیں خالی ہونے کے باعث ایوان کے موجودہ اراکین کی تعداد 326 ہے۔ آئینی ترمیم کے لیے 224 اراکین کی حمایت ضروری ہے۔ حکومتی اتحاد کو فی الحال 237 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ مسلم لیگ ن 125 اراکین کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے 74، ایم کیو ایم کے 22، ق لیگ کے 5 اور آئی پی پی کے 4 ارکان بھی اتحاد کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ ضیاء، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے 1، 1 اراکین اور 4 آزاد اراکین بھی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔

اپوزیشن کی مجموعی تعداد 89 ہے جس میں 75 آزاد شامل ہیں۔ جے یو آئی ف کے 10 جبکہ سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت المسلمین، بی این پی مینگل اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے 1، 1 اراکین اپوزیشن بینچوں پر موجود ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا