پاکستان، ترکیہ اور سعودی دفاعی معاہدہ سعودی عرب کی سلامتی کی ضمانت نہیں، ایرانی رکن پارلیمنٹ

0
413

ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی اینڈ فارن پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان ہونے والا نیا مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ابراہیم رضائی نے کہا کہ سعودی عرب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ترکیے اور پاکستان کے ساتھ کیا گیا یہ کاغذی معاہدہ اسے وہ تحفظ فراہم نہیں کرے گا جو دہائیوں تک امریکہ پر یک طرفہ انحصار کے باوجود حاصل نہ ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسیاں تبدیل کرنی چاہئیں تاکہ اسے اپنی سلامتی کے لیے دوسروں پر انحصار نہ کرنا پڑے۔

ابراہیم رضائی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی حکام نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو میں کہا ہے کہ انہیں عراق اور یمن میں ایران نواز مسلح گروہوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کا خطرہ لاحق ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ معاہدہ مکہ کے قصر الصفا میں ہونے والے مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس کے دوران طے پایا، جس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے شرکت کی اور معاہدے پر دستخط کیے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا