جعلی مقدمات پر بچیوں اور والدہ کو اغوا کرانا کہاں کا انصاف؟جسٹس محسن کیانی

0
376

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کمسن بچیوں اور والدہ کے اغوا کیس میں شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پانچ جعلی مقدمات درج کروا کر بچیوں اور عورت کو اغوا کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول کے وقاص احمد اور سہیل علیم کے ساتھ مالی تنازع کے کیس میں، درج مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ تحقیقات تو جاری رکھیں تاہم کوئی حتمی حکم نہ جاری کریں، کیوں کہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی معطلی کے باعث معاملہ احتیاط سے آگے بڑھانا ہوگا۔

دورانِ سماعت جسٹس کیانی نے اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے اقدامات پر سخت ناراضی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ مدعی کو آج تک کسی نے دیکھا تک نہیں، جعلی مقدمات کروا کر عورت اور بچیوں کو اغوا کیا گیا۔ معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیجا گیا تاکہ انہیں معلوم ہو کہ ان کی پولیس عورت کے اغوا میں ملوث رہی ہے۔

جسٹس کیانی نے ریمارکس دیے کہ جھوٹے مقدمات پر ریکوری ممکن نہیں، یہ پرچے ٹرائل میں دس منٹ بھی قائم نہیں رہیں گے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جس عورت کو اغوا کیا گیا، اسی کے گھر سے سامان “چوری” دکھا کر ریکوری ڈال دی گئی۔ ساتھ ہی کہا کہ پٹیشنر بھی صاف کردار نہیں، جس نے اکتیس کروڑ کی جائیداد بیچی اور پولیس افسران نے ماتحت اہلکاروں کے ساتھ مل کر حیران کن کردار ادا کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کو پٹیشنر سے کوئی ہمدردی نہیں، اگر وہ قصوروار ہے تو اسے سزا ملے گی، مگر بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ اغوا کی جگہ کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے۔

دورانِ بحث وکلا نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیا جس پر جسٹس کیانی نے کہا کہ سپریم کورٹ سے فیصلہ آنے تک ہائی کورٹ بھی کوئی حتمی حکم نہیں دے گی۔

عدالت نے سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا