مشن حج؛ احتساب، شفافیت، اور اعتماد کا فقدان کیوں؟

0
1147

تحریر و تحقیق: مسعود چوہدری

پاکستان کی سرکاری حج اسکیم، جو ہر سال سوا لاکھ سے زاءد حجاج کرام کے مقدس ترین سفر کی امین ہے، پچھلے تین برسوں سے ایک ایسے سوال کی زد میں ہے جس کا جواب وزارتِ مذہبی امور آج تک نہیں دے سکی کہ مشاعر کی خدمات، جن پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور جن کا براہِ راست تعلق عازمینِ حج کی رہائش، ٹرانسپورٹ اور منیٰ و عرفات کے قیام سے ہے، مسلسل ایک ہی سعودی کمپنی، الراجیحی، کے سپرد کیوں کی جا رہی ہیں؟ حج 2025 کے ٹینڈر کے وقت الراجیحی کی سعودی حکومت سے منظور شدہ سروس استعداد محض دس ہزار عازمین کی تھی، مگر اسے تقریباً نواسی ہزار پاکستانی حاجیوں کی ذمہ داری سونپ دی گءی۔ یہ کوئی معمولی انتظامی بے احتیاطی نہیں بلکہ پاکستان کے پبلک پروکیورمنٹ قوانین کی روح سے براہِ راست انحراف تھا، اور خود ہائرنگ اینڈ پروکیورمنٹ کمیٹی کے نو میں سے چار ارکان نے اس فیصلے پر تحریری اختلافی نوٹ ریکارڈ پر لا کر خبردار کر دیا تھا کہ کوٹہ غلط بنیادوں پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے سینیٹر عون عباس بپی کی سربراہی میں تین رکنی ذیلی کمیٹی، جس میں سینیٹر بشریٰ بٹ اور سینیٹر دنیش کمار بھی شامل تھے، کے ذریعے تفصیلی تحقیقات کے بعد باقاعدہ طور پر قرار دیا کہ یہ تقسیم غیر شفاف انداز میں اور بدنیتی کے تحت کی گئی۔ اس وقت کے وفاقی وزیر مذہبی امور چوہدری سالک حسین نے بھی وزارت کا قلمدان چھوڑتے وقت باضابطہ نوٹ ریکارڈ کا حصہ بنایا کہ مشاعر کوٹہ کی تقسیم میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔

اتنے واضح شواہد کے باوجود آج تک کسی کے خلاف کوئی انکوائری شروع نہیں کی گئی، نہ کسی کو جوابدہ ٹھہرایا گیا۔اگر یہ ایک اتفاقیہ غلطی ہوتی تو حج 2026 میں اس کا اعادہ نہ ہوتا۔ مگر جس ڈی جی حج نے 2025 کے متنازع فیصلے کیے، اسی کو 2026 کی ہائرنگ اینڈ پروکیورمنٹ کمیٹی کا سربراہ بھی بنا دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حج 2026 کی مشاعر سروسز کے لیے جاری کردہ ریکویسٹ فار پروپوزل یعنی آر ایف پی کو ابتدا ہی سے اس انداز میں ترتیب دیا گیا کہ الراجحی سب سے زیادہ اسکور حاصل کر کے سرفہرست آئے، اور سینیٹر مولانا عطاء الرحمٰن کی زیرِ صدارت سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کے منٹس میں یہ ریمارکس باقاعدہ درج ہیں۔

یوں مشاعر سروسز کے ریکویسٹ فار پروپوزل ، یعنی وہ سرکاری ٹینڈر دستاویز جس میں سروس پرووائیڈرز کی اہلیت، جانچ ، اسکورنگ، انتخاب کے معیار اور معاہدے کی شرائط طے کی جاتی ہیں، پر سنگین تحفظات سامنے آءے۔ کمیٹی نے صاف اور تحریری سفارش دی کہ تنازع سے بچنے کے لیے مشاعر کوٹہ دونوں کمپنیوں، الراجحی اور رواف منیٰ، کے درمیان مساوی بنیادوں پر تقسیم کیا جاءےجبکہ مزید کہا گیا کہ تمام عمل پیپرا رولز کے مطابق ہونا چاہیے۔

اس سفارش کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوءے ڈی جی اوپیپ جدہ عبدالوہاب سومرو اور ان کی کمیٹی نے تقریباً پچانوے ہزار عازمین کا کوٹہ الراجحی جبکہ محض پچیس ہزار کا کوٹہ رواف منیٰ کو دے دیا۔ اس پر او پی اے پی کے ڈی جی عبد الوہاب سومرو نے موقف دیتے ہوءے قاءمہ کمیٹی کو بتایا کہ فیصلہ انکا اکیلے کا نہیں تھا پوری کمیٹی کا تھا۔ اس نکتہ کے حقاءق پر کلام آنے والے دنوں میں کریں گے کہ ان معاملات سے جڑی تفصیلات نہایت سنگین و ہوشربا ہیں جنہیں الگ سے تفصیلی طور پر بیان کیا جانا اہم ہے لہٰذا فی الحال ایک جانب رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن شگفتہ جمانی نے اس معاملے پر سرِعام سوال اٹھایا کہ الراجحی کو بار بار کیوں نوازا جا رہا ہے، اور کیا کوءی اور مشاعر کمپنی پاکستانی مہمانوں کی خدمت کے قابل نہیں۔ انہوں نے پروکیورمنٹ کمیٹی اور اس کے طریقہ کار پر عدم اعتماد کا کھلا اظہار کیا اور براہِ راست پوچھا کہ الراجحی سے پاکستان کی جان کب چھوٹے گی۔

یہ سوالات کسی سیاسی مخالفت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منتخب پارلیمانی کمیٹی کی چیئرپرسن کی جانب سے سرکاری ریکارڈ پر لاءے گءے تحفظات ہیں، اور انہیں نظر انداز کرنا خود جمہوری احتساب کے عمل کی توہین ہے۔ اسی اجلاس میں ڈی جی حج عبدالوہاب سومرو نے دعویٰ کیا کہ ایک لاکھ اُنیس ہزار حاجیوں میں محض ایک سے دو فیصد شکایات موصول ہوءیں اور پاکستان کو مسلسل دوسرے سال بہترین حج انتظامات پر ایوارڈ ملا، جبکہ چیئرپرسن نے اسی نشست میں سوال اٹھایا کہ سوکھے نان اور چنے دیے جاءیں گے تو شکایات ضرور آئیں گی، اور ایوارڈ کارکردگی پر ملا یا کسی اور بنیاد پر، یہ تضاد خود وزارت کے دعووں کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔کھانے کے معیار پر شکایات کی جڑ محض بدانتظامی نہیں بلکہ ایک تکنیکی خامی میں پیوست ہے۔ سعودی وزارتِ حج نے حج 2025 اور 2026 کے لیے ہر حاجی کے لیے یومیہ پانچ ہزار کیلوریز کا خوراک معیار مقرر کیا تھا، مگر وزارتِ مذہبی امور نے ٹینڈر کے وقت غذاءی معیار کی بجائے سب سے کم بولی دینے والے کو ترجیح دی۔

نتیجہ یہ نکلا کہ کیٹرنگ کمپنیوں نے کیلوریز کا ہدف چاول اور روٹی کی مقدار بڑھا کر پورا کیا جبکہ پروٹین کی مقدار کم کر دی گءی، جبکہ دوسری جانب کھانا بے ذاءقہ اور ناقص معیار ثابت ہوا۔ یعنی وزارت کا یہ دعویٰ کہ معیاری خوراک فراہم کی گءی، محض کیلوریز کی حد تک درست ہے، غذاءیت کے اعتبار سے نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ثابت ہونے پر دو کیٹرنگ کمپنیوں کو بلیک لسٹ بھی کرنا پڑا۔ انتہاء حیرت کے ساتھ بتاتا چلوں کہ قومی اسمبلی کی مزکورہ کمیٹی میں دوران بریفنگ ڈی جی او پیپ جدہ عبد الوہاب بار بار اس بات کا تذکرہ کرتے رہے کہ حاجی مٹن زیادہ کھلاءے جانے کی شکایت کرتے رہے جو کہ انتہاء گمراہ کن بیانیہ اور کمیٹی ممبران کے ساتھ غلط بیانی کے مترادف ہے۔

دراصل پورا سچ یہ ہے کہ حاجی بدمزہ گوشت و ناقص معیار کھانوں کی شکایت کرتے رہے جس کو سپن کر کے ڈی جی موصوف نے اپنے حق میں گھمانے کی کوشش کی۔ یاد رہے کہ ادارہ نے 32 ریال یومیہ فی فرد کھانے کی مد میں چارجز وصول کیے۔ جو لوگ سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں وہ بخوبی آگاہ ہیں کہ سعودی عرب میں اچھے ترین معیار کا حامل ایک فرد کا کھانا 6 ریال سے 8 ریال کے درمیان باآسانی دستیاب رہتا ہے۔

جب تعداد زیادہ ہو تو قیمت کم اور معیار بہتر ہونا چاہیے جبکہ سرکاری منطق کے مطابق قیمت بڑھ گء اور معیار کم ہو گیا کیونکہ حاجیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ دراصل ایک فرق سمجھیں، اگر سرکاری اہلکاران و افسران کا مقصد خدمت حجاج ہو تو کبھی کوء حاجی سفر حج سے ناراض واپس نہ لوٹے اور کوء شکایت سامنے نہ آءے لیکن بظاہر مقاصد کچھ اور دکھاء دیتے ہیں

۔ حج 2026 کے دوران مزکورہ اجارہ داری کے مزید سنگین نتاءج بھی سامنے آءے۔ پاکستانی عازمین کو الراجحی اور رواف منیٰ کی عمارتوں میں اس بے ترتیبی سے تقسیم کیا گیا کہ دونوں کمپنیوں کے رہاءشی انتظامات آپس میں مخلوط ہو گئے۔ اس اختلاط کی حقیقی وجہ سامنے آنے والے شواہد کے مطابق منیٰ اور عرفات میں بیڈ اسپیس کی گنجاءش اور دیے گئے کوٹے کے درمیان فرق تھا، الراجحی کے پاس نواسی ہزار عازمین کا کوٹہ تو تھا مگر اتنی رہاءشی گنجائش موجود نہیں تھی، جس کے باعث حاجیوں کو دوسری کمپنی کے کیمپوں میں منتقل کرنا پڑا۔ یہ کوءی سرسری غلطی نہیں بلکہ ایک ایسی زیادتی کے مترادف ہے

جیسے ہوائی جہاز میں نشستوں سے زیادہ ٹکٹیں فروخت کر دی جاءیں۔ نتیجتاً سینکڑوں پاکستانی عازمین کے پاسپورٹ گم ہوءے یا غلط مقامات پر منتقل ہوئے، اور کءی حاجیوں کو آؤٹ پاس جاری کر کے وطن واپس بھیجنا پڑا۔ سعودی وزارتِ حج و عمرہ کو بھی اس بدانتظامی کے باعث غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اجلاس کے دوران وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے بیان کیا کہ ہم نے 12 ہزار حاجیوں کی الگ کمروں کی درخواست کو انٹرٹین کرتے ہوءے مزید بہترین رہاءشیں مہیا کیں لیکن کچھ بھی کر لیں لوگ خوش نہیں ہوتے۔

یہ تاثر بھی انتہاء گمراہ کن ہے۔ جن رہاءشوں کی تبدیلی کی بات ہو رہی ہے وہ ان عمارات سے متعلق ہے جن میں ایک ایک کمرے میں متعدد حاجیوں کو رکھا گیا اور احتجاجی ردعمل کے سبب رہاءشیں تبدیل و مہیا کی گءیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ دوران کمیٹی میٹنگ ڈی جی او پیپ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف کی تعریفوں کے پل باندھتے دکھاء دیے جبکہ سردار یوسف مسلسل نہ صرف ڈی جی او پیپ عبدالوہاب کے انتظامی اقدامات کے معترف نظر آئے بلکہ اگر کوئی تیکھا سوال ڈی جی صاحب کی جانب گیا بھی تو اسکا تعریفی جواب وفاقی وزیر نے ڈی جی او پیپ سے پہلے ہی مہیا فرما دیا۔

قومی اسمبلی کی قاءمہ کمیٹی نے اپنی باقاعدہ رپورٹ میں رہاءشی عمارتوں کی بکھری ہوءی الاٹمنٹ، عمارتوں کی درجہ بندی میں تضاد، بلیک لسٹ کیٹرنگ کمپنیوں کی ناقص خوراک اور واپسی پروازوں کی بدانتظامی پر شدید تشویش ظاہر کی، اور صاف الفاظ میں کہا کہ پیپرا قوانین کے برعکس الراجحی کو ٹھیکہ دیا گیا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان تمام ناکامیوں کے باوجود ذمہ دار افسران کو جوابدہ بنانے کے بجاءے وزارت نے سرکاری سطح پر کامیابی کے بیانیے کو فروغ دیا اور بین الاقوامی ایوارڈز کا ذکر کر کے تنقید کو زاءل کرنے کی کوشش کی۔ کارکردگی کے دعوے اپنی جگہ، مگر پاسپورٹ گم ہونا اور عازمین کو جبراً وطن بھیجنا کوئی معمولی آپریشنل مسءلہ نہیں بلکہ لاکھوں روپے خرچ کر کے حج پر جانے والے پاکستانی شہریوں کی عزتِ نفس اور بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔

اسی دوران نجی حج اسکیم کا بحران پاکستان کی حج تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل بن کر سامنے آیا، اور اس کی اصل وجہ محض کوٹے کی کمی نہیں بلکہ اداءیگی کے چینل کی خرابی تھی۔ نجی حج آپریٹرز نے تقریباً ستر کروڑ سعودی ریال، یعنی تقریباً چھتیس ارب روپے، سعودی عرب بھجواءے، مگر یہ رقوم ہوٹل مالکان کو براہِ راست ادا کرنے کے بجاءے درمیانی ایجنٹوں کے ذریعے منتقل کی گءیں۔ جب سعودی حکومت نے آڈٹ کیا تو یہ اداءیگیاں آفیشل چینلز پر وصول شدہ ثابت نہ ہو سکیں اور غیر تصدیق شدہ قرار دے کر مسترد کر دی گءیں۔ نتیجتاً ابتدا میں صرف چودہ ہزار عازمین کی اداءیگیاں قبول ہوئیں، اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ذاتی مداخلت پر مزید دس ہزار کوٹہ ملا، مگر پھر بھی ستاءیس ہزار کے قریب عازمین حج سے محروم رہ گءے جبکہ ان کے چھتیس ارب روپے سعودی عرب میں پھنسے رہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر اتنی بڑی رقم کا نظام اس قدر کمزور تھا کہ وہ سعودی آڈٹ میں پھنس گیا، تو غلط چینل سے ادائیگی کرنے والے آپریٹرز کے خلاف آج تک کوءی کاروائی کیوں نہیں ہوئی، اور وہ رقم بالآخر کہاں گئی؟وزارتِ مذہبی امور کی مالی بدانتظامی کا ایک اور ثبوت خود آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں موجود ہے، جو حال ہی میں پارلیمنٹ میں پیش کی گءی۔ اس رپورٹ کے مطابق چار وفاقی وزارتوں میں مجموعی طور پر 16 ارب 69 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جن میں اکیلے وزارتِ مذہبی امور کے آٹھ آڈٹ پیراز میں 5 ارب 21 کروڑ روپے سے زاءد کی بے قاعدگیاں شامل ہیں۔

رپورٹ میں خاص طور پر درج ہے کہ ایک نجی حج کمپنی اور طوافہ کمپنی نے معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں چالیس لاکھ سعودی ریال کا معاوضہ وزارت کو وصول کرنا تھا، مگر مؤثر قانونی اقدامات نہ کیے جانے کے باعث یہ رقم آج تک وصول نہیں ہو سکی اور متاثرہ حجاج اپنے حق سے محروم ہیں۔ جس ادارے میں چالیس لاکھ ریال کا جائز معاوضہ بمعنی حق وصول کرنے کی سکت و ارادہ نہ ہو، اس سے چھتیس ارب روپے کے اسکینڈل میں مؤثر جوابدہی کی توقع رکھنا ایک مشکل امر ہے۔اس پورے تنازع کے دوران جس عہدے نے سب سے زیادہ سوالات کو جنم دیا وہ ڈی جی اوپیپ جدہ کا منصب ہے۔ عبدالوہاب سومرو کی مدتِ تعیناتی مہینوں پہلے مکمل ہو چکی تھی، مگر انہیں پہلے حج آپریشن 2026 کی تکمیل تک اور بعد ازاں جون کے آخر تک توسیع دی گئی، اور اب بھی وہ حج 2027 کی تیاریوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ نءے ڈی جی کے تقرر کے لیے تحریری امتحان، انٹرویوز اور میرٹ پر مبنی مکمل عمل کءی ماہ پہلے مکمل ہو چکا، سرفہرست تین امیدواروں کے نام باقاعدہ سمری کی صورت میں اپریل میں وزیرِاعظم آفس بھجواءے جا چکے ہیں، مگر منظوری تاحال زیرِ التوا ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف خود ذراءع ابلاغ کو بتا چکے ہیں کہ تقرری کا عمل آخری مرحلے میں ہے اور وزیرِاعظم کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا، مگر یہ یقین دہانی مہینوں سے دہرائی جا رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب میرٹ پر مبنی پورا عمل مکمل ہو چکا ہے تو پھر وزیرِاعظم آفس میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے، اور شارٹ لسٹ شدہ امیدواروں کی موجودگی میں اسی افسر کو بار بار توسیع دینے کی انتظامی، قانونی یا عوامی مفاد پر مبنی کیا وجہ ہو سکتی ہے جس کی زیرِ نگرانی حج 2025 اور 2026 کے متنازع فیصلے ہوءے۔ یہ تاخیر اتفاقیہ محسوس نہیں ہوتی، بلکہ اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ حج 2027 کی پالیسی، آر ایف پی اور مشاعر کوٹہ کی تقسیم بھی اسی افسر کی نگرانی میں، اسی ڈھب پر مکمل کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس نے پچھلے دو برس میں ایک ہی کمپنی کو غیر معمولی فاءدہ پہنچایا۔

حج 2027 کی تیاریوں کے ساتھ ایک نیا پہلو بھی جڑ گیا ہے۔ وفاقی کابینہ حج 2027 سے 2030 تک کے لیے ایک کثیر سالہ حج پالیسی کی منظوری دے چکی ہے تاکہ عازمین ہر سال کی بجاءے کسی بھی سال کے لیے پیشگی رجسٹریشن کروا سکیں، اور تین لاکھ سے زاءد افراد اب تک اندراج کروا چکے ہیں۔ اسکا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اب حج کے لیے کء سال پہلے بکنگ کروانی ہوا کرے گی اور پیسے نہ جانے کس کس کے پاس جمع رہیں گے۔ مگر یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ جب سعودی وزارتِ حج و عمرہ ہر سال سروس پروواءیڈر کمپنیوں کی کارکردگی کا از سرِ نو جاءزہ لے کر ان کی درجہ بندی اور استعداد کا تعین کرتی ہے، تو ایک طویل المیعاد انتظامی بندوبست پاکستانی عازمین کے مفاد کا تحفظ کیسے یقینی بنائے گا اگر کسی کمپنی کی کارکردگی غیر تسلی بخش نکلے یا اس کی اہلیت تبدیل ہو جاءے تو ان عازمین کا کیا سٹیٹس ہو گا جو انکے ساتھ بکنگ کروا چکے ہوں گے۔

سعودی حج پالیسی کی شق نمبر چھ خود واضح کرتی ہے کہ حج امور کا دفتر اصولاً صرف ایک سعودی سروس پروواءیڈر کے ساتھ معاہدہ کرے گا، اور ایک سے زاءد کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب سعودی وزارتِ حج و عمرہ سے پیشگی تحریری منظوری اور ایک واضح آپریشنل پلان پیش کیا جاءے جو یہ ثابت کرے کہ مختلف کمپنیوں کے رہاءشی انتظامات مکمل طور پر الگ الگ ہوں گے۔ یاد رہے کہ اس شق کی روح دراصل تعداد کی پابندی نہیں بلکہ نظم و ضبط کی ضمانت ہے، سعودی حکومت کو اعتراض ایک سے زاءد کمپنیوں پر نہیں بلکہ ناقص منصوبہ بندی پر ہے۔

حج 2026 کا تجربہ گواہ ہے کہ ایسا کوئی مؤثر آپریشنل پلان موجود نہیں تھا، جس کا خمیازہ عام حاجیوں نے پاسپورٹ کھو کر اور وطن جبراً واپس آ کر بھگتا۔ اگر پاکستان نے تاحال ایسا کوءی قابلِ عمل پلان تیار نہیں کیا تو یہی کوتاہی حج 2027 میں اس دلیل کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے کہ چونکہ ماضی میں مخلوط انتظامات ناکام رہے، اس لیے آءندہ پورا کوٹہ ایک ہی کمپنی کو دے دیا جاءے، جو دراصل مسءلے کا حل نہیں بلکہ اجارہ داری کو مستقل شکل دینے کا راستہ ہو گا۔یہاں یہ بات بھی نوٹ کرنا ضروری ہے کہ پاکستان کے پاس نظری طور پر الراجحی کے سوا بھی متعدد بھروسہ مند متبادل موجود ہیں۔

سعودی وزارتِ حج نے تیرہ سے چودہ مجاز سروس پروواءیڈرز کو تسلیم کر رکھا ہے، جن میں سعودی ایئرلائنز گروپ کی ذیلی کمپنی سعودیہ حج اینڈ عمرہ، جو 80 سال سے زاءد تجربہ رکھتی ہے اور منیٰ، عرفات و مزدلفہ میں اپنی مخصوص اراضی کی مالک ہے، نمایاں ہے۔ اسی طرح سیرا گروپ ہولڈنگ اور درہاسپیٹیلیٹی سعودی اسٹاک ایکسچینج پر باقاعدہ لسٹڈ کمپنیاں ہیں، جن کے مالی گوشوارے اور کارکردگی عوامی طور پر قابلِ تصدیق ہیں، اور شفافیت کے اعتبار سے یہ الراجحی کے مقابلے میں کہیں زیادہ جوابدہ متبادل بنتی ہیں۔ ایم سی ڈی سی اور عبداللطیف جمیل جیسے مزید تجربہ کار ادارے بھی فہرست میں شامل ہیں۔

جب اتنے متبادل موجود ہوں تو تین سال پہلے بلیک لسٹ رہ چکی ایک کمپنی کو مسلسل نوازنے کا کوءی انتظامی، قانونی یا عوامی مفاد پر مبنی جواز باقی نہیں رہتا۔ واقفان حال اسکی ایک ہی وجہ بار بار بیان کرتے ہیں کہ بڑی مالی منفعت درپردہ کارفرما ہے۔ اگر ان تمام واقعات کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو یہ کوءی الگ الگ انتظامی غلطیاں نہیں بلکہ ایک مربوط اور مسلسل نمونہ ہے، اندرونی کمیٹی نے وارننگ دی، عہدہ چھوڑتے وفاقی وزیر نے تحریری نوٹ چھوڑا، سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے بدنیتی کی نشاندہی کی، قومی اسمبلی کی کمیٹی نے پیپرا خلاف ورزی پر برہمی ظاہر کی، مگر ہر سطح پر ملنے والی وارننگ نظر انداز ہوئی، اور جو افسر ذمہ دار ٹھہرایا گیا اسے سزا کے بجاءے مزید اختیار اور توسیع دے دی گئی۔ اگر حج 2027 کا پورا عمل بھی اسی افسر کی نگرانی میں، اسی طریقہ کار سے مکمل کرایا گیا، تو یہ خدشہ حقیقت کا روپ دھار لے گا کہ مقصد کسی انتظامی سہولت کا نہیں بلکہ ایک مخصوص کمپنی کو بتدریج پاکستان کے سرکاری حج مشن کا غیر رسمی ٹھیکیدار بنانا ہے۔

اگر ایسا ہوا تو یہ صرف چھتیس ارب روپے یا 89 ہزار حاجیوں کا معاملہ نہیں رہے گا بلکہ اس سے پاکستان کے سرکاری حج مشن کی خودمختاری ہی داؤ پر لگ جائے گی، اور وزارتِ مذہبی امور محض ٹکٹ جاری کرنے والا ادارہ بن کر رہ جاءے گی جبکہ حقیقی فیصلہ سازی ایک غیر ملکی کمپنی اور چند نادیدہ قوتوں کے باہمی اشتراک کے ساتھ مل کر چند مخصوص ہاتھوں میں چلی جائے گی۔اس پورے معاملے کا حل نہ کسی نءے تنازع میں ہے اور نہ کسی ایک کمپنی کے دفاع یا مخالفت میں، بلکہ ایک شفاف، مسابقتی اور میرٹ پر مبنی نظام کی بحالی میں ہے۔

جس طرح کیٹرنگ کا کوٹہ متعدد کمپنیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، اسی اصول کے تحت مشاعر کا کوٹہ بھی کم از کم تین سے چار سعودی سروس پروواءیڈر کمپنیوں کے درمیان تقسیم کیا جانا چاہیے، اور کسی ایک کمپنی کو مجموعی سرکاری حج کوٹے کے پینتالیس فیصد سے زیادہ حصہ ہرگز نہ دیا جاءے تاکہ کارکردگی کی بنیاد پر صحت مند مسابقت برقرار رہے اور کسی ایک کمپنی کی گرفت وزارت پر مستقل نہ ہو۔ مشاعر سروسز کے معاہدے مثالی طور پر مختصر مدت، ترجیحاً ایک سال، کے لیے کیے جاءیں تاکہ ہر سال کارکردگی کے میرٹ پر بہترین کمپنیوں کا از سرِ نو انتخاب ممکن ہو، اور طویل المیعاد رجسٹریشن پالیسی کے باوجود سالانہ کارکردگی کے جائزے اور کوٹہ کی از سرِ نو تقسیم کا طریقہ کار واضح طور پر پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔

نئی حج پالیسی، آر ایف پی (ریکویسٹ فار پروپوزل) اور مشاعر سروسز کی خریداری کا پورا عمل کسی نءے، غیر جانبدار اور خالصتاً میرٹ پر تعینات ڈی جی اوپیپ جدہ کی نگرانی میں مکمل کرایا جانا چاہیے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ جن تین امیدواروں کے نام میرٹ پر منتخب ہو کر وزیرِاعظم آفس بھجواءے جا چکے ہیں، ان میں سے کسی ایک کی تقرری کا نوٹیفکیشن بلاتاخیر جاری کیا جاءے اور عبدالوہاب سومرو کی مسلسل توسیع کا سلسلہ ختم کیا جائے۔

اسی طرح چھتیس ارب روپے کے نجی اسکیم اسکینڈل اور چالیس لاکھ ریال کے واجب الادا معاوضے کی وصولی کے لیے واضح ٹائم لائن کے ساتھ قانونی کارواءی کا آغاز کیا جاءے، اور آڈیٹر جنرل کی سفارشات پر عملدرآمد کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جاءے۔وزیرِاعظم شہباز شریف سے براہِ راست استدعا ہے کہ وہ اس معاملے کا ذاتی نوٹس لیں، کیونکہ یہ محض ایک انتظامی تاخیر نہیں بلکہ لاکھوں پاکستانی عازمینِ حج کے اعتماد اور قومی وقار سے جڑا مسءلہ ہے۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی متفقہ سفارشات، جو باضابطہ ریکارڈ پر موجود ہیں، ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، اور جن افسران کی زیرِ نگرانی پیپرا قوانین کی خلاف ورزی اور مشاعر کوٹہ کی غیر شفاف تقسیم ہوئی، ان کا احتساب کیا جائے۔

سعودی حکومت اور وزارتِ حج و عمرہ سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنی ہی پالیسی کی شق نمبر چھ کے تقاضوں کی روشنی میں پاکستانی حج مشن کی جانب سے پیش کیے جانے والے کسی بھی سنگل سروس پروواءیڈر معاہدے کا سختی سے جاءزہ لیں، اور اس بات کو یقینی بناءیں کہ آءندہ کوءی بھی انتظام عازمینِ حج کی رہاءش اور حفاظت کو خطرے میں نہ ڈالے جیسا کہ حج 2026 میں پیش آیا۔ حج ایک عبادت اور امانت ہے، اور اسے کسی ایک کمپنی کے مفاد یا کسی افسر کی ذاتی پوزیشن کا یرغمال بناءے رکھنا نہ انتظامی طور پر قابلِ قبول ہے اور نہ اخلاقی طور پر۔ اجارہ داری کا خاتمہ، شفاف مسابقت کی بحالی، مالی احتساب اور میرٹ پر تقرریاں؛ یہی وہ چار ستون ہیں جن پر حج 2027 کی ساکھ کھڑی ہو سکتی ہے، اور یہی وہ کم از کم مطالبہ ہے جو ہر وہ پاکستانی رکھتا ہے جس نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اس مقدس سفر کے لیے وقف کر رکھی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا