افغانستان سے تجارت شہریوں کے قتلِ عام کا لائسنس نہیں، دفتر خارجہ

0
867

اسلام آباد: دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ہاتھوں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جبکہ ایک افغان رہنما کی جانب سے چار ہزار خودکش حملہ آور پاکستان بھیجنے کی دھمکی ہمارے مؤقف کی سچائی ثابت کرتی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے سرحد اسی لیے بند کی کیونکہ افغان طالبان انتظامیہ ایسے گروہوں کی حمایت کر رہی ہے جو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو ہمارے شہریوں کے قتلِ عام کا جواز نہیں بنایا جا سکتا، پاکستان انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین مسلسل دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جس کے واضح شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے افغان رہنما کے حالیہ بیان کو پاکستان کے تحفظات کا ثبوت قرار دیا۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بھارت وہاں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی منظم کوشش کر رہا ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم اور بنیادی حقوق کی پامالیوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا