غزہ میں اسرائیلی فوج کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں حماس نے ثالثوں سے فوری مداخلت کی اپیل کر دی ہے۔ حماس کے اعلیٰ عہدیدار نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں پر انہیں شدید غصہ ہے اور انہوں نے اس صورتحال سے ثالثوں کو آگاہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قابض اسرائیل جنگ بندی معاہدے کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، لہٰذا معاہدے کو بچانے کے لیے ثالث فوراً مداخلت کرے۔
حالیہ حملوں میں اسرائیلی طیاروں، ڈرونز اور ٹینکوں نے غزہ شہر، رفح اور خان یونس پر شدید بمباری کی، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 25 فلسطینی ہلاک ہوئے، جبکہ حماس نے کہا کہ معاہدے کی منظم خلاف ورزی سے اب تک سیکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
حماس کے عہدیدار نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے تحت واپسی کی طے شدہ حدود میں بھی غیر قانونی تبدیلیاں کی ہیں۔ 10 اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 330 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
غزہ میں جاری حملوں اور بمباری سے انسانی بحران میں شدت آ گئی ہے، اور حماس نے عالمی ثالثوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرکے فلسطینی شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔






