ملائیشیا نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سال سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔ وزیرِ مواصلات کے مطابق حکومت آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے ماڈلز کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ کم عمر صارفین کو سائبر کرائم، مالی فراڈ اور آن لائن استحصال جیسے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
وزیر نے امید ظاہر کی کہ سوشل میڈیا کمپنیاں حکومتی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے 16 سال سے کم عمر افراد کے نئے اکاؤنٹس بنانے پر بھی پابندی لگائیں گی۔
دنیا بھر میں کم عمر صارفین کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں ڈنمارک نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا فیصلہ کیا، جبکہ آسٹریلیا گزشتہ سال ہی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے پابندی کا بل منظور کر چکا ہے۔ امریکا میں بھی سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف اسی حوالے سے متعدد مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔






