الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر طلال چوہدری کے بھائی بلال چوہدری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک دیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ بلال چوہدری کو نااہل نہیں کیا جا رہا، صرف ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈیرہ غازی خان ضمنی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر مشیر حذیفہ رحمان نے الیکشن کمیشن سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کے دوران کمیشن حکام کا مؤقف سنا، جس میں کہا گیا کہ طلال چوہدری نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی واضح خلاف ورزی کی۔
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ وزیر مملکت طلال چوہدری کسی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے مجاز نہیں ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ طلال چوہدری نے خلاف ورزی کی اور پیش ہونے میں بھی تامل کیا۔
طلال چوہدری کے وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل کمیشن کے سامنے پیش ہوں گے، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے انہیں حاضری سے استثنیٰ دے دیا۔
دوران سماعت، چیف الیکشن کمشنر نے حذیفہ رحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ وزارت رکھنا چاہتے ہیں؟ حذیفہ رحمان نے جواب دیا کہ وہ ہمیشہ قانون کا پابند رہتے ہیں اور اگر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ غیر مشروط معافی مانگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کارنر میٹنگ میں نہیں بلکہ میوزیکل نائٹ میں شرکت اور تقریر کر رہے تھے۔
الیکشن کمیشن نے حذیفہ رحمان کو کیس کی دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت دی اور ان سے باضابطہ جواب جمع کرانے کو کہا۔ کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔






