۔27 ویں آئینی ترمیم پر انسانی حقوق کمشنر کا بیان زمینی حقائق کا عکاس نہیں: دفتر خارجہ

0
391

اسلام آباد: پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق دیے گئے تبصرے زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق پارلیمان سے دو تہائی اکثریت سے منظور ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم پر بے بنیاد اور غلط فہمیوں پر مبنی اعتراضات پر گہری تشویش ہے۔ ترجمان نے کہا کہ تمام جمہوری ممالک کی طرح پاکستان میں بھی آئینی ترمیم عوام کے منتخب نمائندوں کا اختیار ہے، اور اس ترمیم کے لیے آئین پاکستان میں درج تمام طریقہ کار پر مناسب عمل کیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان انسانی حقوق، بنیادی آزادیوں اور قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے اپنے آئین کے مطابق پُرعزم ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے کردار کو اہمیت دیتا ہے، تاہم افسوس ہے کہ جاری کردہ بیان میں نہ تو پاکستان کے مؤقف کا درست عکس پیش کیا گیا اور نہ ہی زمینی حقائق کو مدنظر رکھا گیا۔

وزارتِ خارجہ نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے خود مختار فیصلوں کا احترام کریں اور ایسے بیانات سے گریز کریں جو سیاسی تعصب یا غلط معلومات پر مبنی ہوں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ٹَرک نے حال ہی میں کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے عجلت میں کی گئی آئینی ترامیم عدلیہ کی آزادی اور فوجی احتساب کے نظام کو نقصان پہنچاتی ہیں، جو قانون کی حکمرانی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات کو جنم دیتی ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا