سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کی نفی ملک کے لیے نقصان دہ ہوگی اور سیاست میں گالیوں کے کلچر کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
پشاور پریس کلب میں عوام پاکستان پارٹی کے اراکین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد نہ اقتدار ہے اور نہ ہی کرسی، بلکہ وہ ایسے فیصلوں کے حامی ہیں جو ملک کے لیے فائدہ مند ہوں۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ملک تب ہی ترقی کرے گا جب قانون اور آئین کے مطابق چلے گا۔ نوجوانوں کے مسائل حل نہ کیے گئے تو یہی مسائل مستقبل میں بڑا بوجھ بن جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان تعلیم، روزگار اور کاروبار کے مواقع چاہتے ہیں، اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو صبر اور برداشت سے آگے بڑھنا ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کی گنجائش موجود ہے، اور اگر ضروری ہوا تو یہ اقدام دیگر صوبوں میں بھی کیا جا سکتا ہے، تاہم عوامی مینڈیٹ کو مسترد کرنے سے ملک کو نقصان ہوگا۔
سابق وزیرِ اعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ عوام کی رائے کا احترام نہیں کیا جاتا، جبکہ آئینی ترامیم بھی عوام کی مرضی کے مطابق ہونی چاہئیں۔ ان کے مطابق ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا، اور گالیوں کی سیاست معاشرے میں نفاق کو بڑھاتی ہے جسے ختم کرنا ضروری ہے۔
افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی، اگر افغانستان کی جانب سے حملے ہو رہے ہیں تو انہیں روکا جانا چاہیے کیونکہ وہ ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ملک کو جوڑنے کی بات کرتی ہے اور ملک کے مسائل کے حل کے لیے عملی تجاویز دیتی ہے۔ اگر خیبر پختونخوا کو نظر انداز کیا گیا تو مسائل مزید پیچیدہ ہوں گے، اس لیے ہر ایک کو اپنا کردار ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنا ہوگا۔






