جیل ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقل کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اڈیالہ جیل میں موجود ان کے حوالے سے آنے والی خبریں قیاس آرائی کے سوا کچھ نہیں، اور ان کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پمز اسپتال کی 5 رکنی ڈاکٹرز کی ٹیم نے حال ہی میں عمران خان کا طبی معائنہ کیا ہے اور وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ سکیورٹی اور خوراک کے حوالے سے بھی ان کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے۔
جیل ذرائع نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی منتقلی پر کوئی بات زیر غور نہیں ہے، جبکہ حکومت کے کچھ اہلکاروں کی جانب سے یہ رائے سامنے آئی تھی کہ ممکنہ طور پر عمران خان کو جیل سے منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے مطابق حالات ایسے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں، اور پی ٹی آئی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ احتجاج کے بہانے فتنہ و فساد کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اس حوالے سے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے بھی کہا کہ حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، لیکن اب تک کسی بھی منتقلی کا فیصلہ نہیں ہوا۔






