وندے ماترم کے الفاظ شرکیہ ہیں، صدر جمعیت علمائے ہند

0
323

جمعیت علمائے ہند (الف) کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے صدرالمدرسین مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو کسی کے وندے ماترم پڑھنے یا گانے پر اعتراض نہیں، مگر مسلمان صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے اور اس عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرسکتا۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم یہ بات دوبارہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مسلمان کی عبادت صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ وندے ماترم نظم کے الفاظ میں شرکیہ عقائد کا اظہار ہے، خصوصاً چار اشعار میں وطن کو “درگا ماتا” سے تشبیہ دی گئی ہے اور عبادت کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو مسلمان کے بنیادی عقیدے کے خلاف ہیں۔

مولانا ارشد مدنی کا کہنا تھا کہ بھارتی آئین کے تحت کسی بھی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے اور جذبات کے خلاف کسی نعرے، گیت یا نظریے کو اپنانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ وطن سے محبت ایک الگ چیز ہے جبکہ اس کی عبادت دوسری بات ہے، اور بھارتی مسلمانوں کو حب الوطنی کے کسی سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وندے ماترم کا مفہوم صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ نظم مادرِ وطن نہیں، بلکہ ہندو دیوی ماتا درگا کی تعریف میں لکھی گئی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مسلمان نیویارک اور لندن کے میئر بن سکتے ہیں لیکن بھارت میں انہیں اپنے مذہبی و شہری حقوق پر مسلسل پابندیوں کا سامنا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا