بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ نہ ماننا اور پانی روکنا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے: صدر مملکت

0
399

اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو تسلیم نہ کرنا اور پاکستان کا پانی روکنے کی کوششیں سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔

صدر مملکت نے بھارتی یکطرفہ اقدامات پر اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں مئی میں پاکستان پر ہونے والے بھارتی حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ بھارتی اقدامات کو عالمی امن و استحکام کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ پاکستان کے مؤقف کی واضح تائید کرتی ہے۔ پاکستان نے بھارتی حملے کو اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی اور اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں بھارتی حملے کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں اور رہائشی و مذہبی مقامات کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھارتی جارحیت کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی ذمہ داری اور علاقائی استحکام کا اہم ستون ہے، جس سے انحراف اور پانی روکنے کے اقدامات خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی ہٹ دھرمی کو بے نقاب کرنے، بھارتی جارحانہ سوچ، بیانات اور جانی نقصانات کو سامنے لانے پر رپورٹ کی تعریف بھی کی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا