اپوزیشن کی قومی کانفرنس، مفاہمت کے بجائے مزاحمت پر اتفاق

0
429

اسلام آباد
تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قومی کانفرنس میں سیاسی رہنماؤں، وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے مفاہمت کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے اور پی ٹی آئی کا ساتھ دینے پر اتفاق کیا۔

کانفرنس میں آئینی ترامیم کو مسترد کیا گیا، پارلیمنٹ کو بے اختیار بنانے پر تنقید کی گئی، عدلیہ کی آزادی اور پیکا ایکٹ کے خلاف آواز بلند کی گئی۔ شرکا کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت نہیں بلکہ مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔

محمود خان اچکزئی نے سیاسی مکالمے پر زور دیتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے اور 8 فروری کے انتخابات کا مینڈیٹ تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ حقوق قربانیوں اور جدوجہد سے ملتے ہیں، پیچھے ہٹنے سے نہیں۔

سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر اور دیگر رہنماؤں نے اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب سڑکوں پر آنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ لیاقت بلوچ نے آئینی ترامیم کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے انہیں واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

ایمان مزاری نے کہا کہ ظالم اور جابر کے سامنے مفاہمت نہیں، مزاحمت کی جاتی ہے، جبکہ بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ مذاکرات یا مزاحمت کا فیصلہ محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کریں گے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے عدالتی فیصلوں کو ناانصافی قرار دیا، جبکہ صحافی مطیع اللہ جان نے موجودہ صورتحال کو اعلانیہ مارشل لا سے تشبیہ دی۔ دیگر مقررین نے بھی جمہوریت، آئین اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد پر زور دیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا