راولپنڈی: یکم جنوری سے گھروں اور دکانوں سے کچرا ٹیکس وصول کیا جائے گا
راولپنڈی میں ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پراپرٹی ٹیکس کے اہداف پورے نہ ہونے پر شدید کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی وجہ سے محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل نے کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور افسروں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔
کمپنیوں اور شہریوں کی طرف سے پیشہ وارانہ ٹیکس کے جمع نہ ہونے پر کئی شکایات موصول ہوئی تھیں، جس پر ایک کانسٹیبل کے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے۔
محکمہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2026 سے راولپنڈی ڈویژن میں گھروں اور دکانوں سے کچرا ٹیکس بھی وصول کیا جائے گا۔
دس جنوری سے 20 جنوری تک ٹیکس بلز جاری کیے جائیں گے، اور اگر لوگ بلز ادا نہیں کرتے تو اُن کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے اور گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں۔
ٹیکس بلز کی تقسیم کے لیے عارضی افرادی قوت کو روزانہ اجرت پر رکھا جائے گا، جبکہ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کو مجموعی وصولیوں کا 10 فیصد بطور معاوضہ ملے گا۔
شہری علاقوں میں ایک گھر سے 300 روپے، ڈبل اسٹوری سے 600 روپے اور ٹرپل اسٹوری سے 900 روپے ٹیکس لیا جائے گا، جبکہ دیہی یونین کونسلوں میں ہر گھر سے صرف 200 روپے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ دکان داروں کو بھی 300 روپے ادا کرنا ہوں گے۔
گھروں کے سائز کے مطابق ٹیکس 300 سے 1200 روپے تک ہوگا، جبکہ تجارتی دکانوں اور صنعتی یونٹس سے 1,000 سے 5,000 روپے تک وصول کیا جائے گا۔






