پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

0
492

اسلام آباد: پاکستان کی معیشت نے ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچا دیے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 21.1 ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں، جنہیں پائیدار ترقی اور ملکی قیادت پر سرمایہ کاروں کے بھرپور اعتماد کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود ذخائر 15.9 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں جبکہ ملک کی درآمدی صلاحیت 2.6 ماہ سے تجاوز کر گئی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ قرضوں کے سہارے نہیں بلکہ مقامی معاشی ترقی، اصلاحات اور اعتماد کی بحالی کا نتیجہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بیرونی قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی تناسب 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد تک آ گیا ہے، جو مالی نظم و ضبط اور اصلاحاتی اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی ذخائر کا حالیہ اضافہ محض وقتی انتظامات کا نتیجہ نہیں بلکہ پائیدار معاشی بحالی کی علامت ہے۔ 2023 میں مرکزی بینک کے ذخائر کم ہو کر صرف 2.9 ارب ڈالر رہ گئے تھے، جو اب تقریباً 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، یعنی تقریباً ساڑھے پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق فارورڈ فارن ایکسچینج واجبات میں بھی تقریباً 65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے مستقبل میں بیرونی دباؤ نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ 2015 سے 2022 کے دوران قرضوں میں مسلسل اضافہ اور ذخائر میں کمی دیکھنے میں آئی، لیکن 2022 کے بعد صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی تناسب میں کمی، مضبوط زرمبادلہ ذخائر، کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافہ اور مجموعی معاشی استحکام اس پیش رفت کے نمایاں اشاریے ہیں۔ زرمبادلہ ذخائر میں حالیہ اضافہ محض عددی بہتری نہیں بلکہ ایک معیاری تبدیلی کی علامت ہے، جو پاکستان کے قرضوں پر مبنی وقتی بقا کی پالیسی سے نکل کر پائیدار بیرونی معاشی استحکام کی جانب گامزن ہونے کا ثبوت ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا