لاہور: سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا سے آنے والے بعض افراد نے غیر ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کیا اور یہ طرزِ عمل ان کی ذہنی پستی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو جماعت مقدس مقامات کا احترام نہیں کرتی وہ پنجاب اسمبلی کے تقدس کو کیا سمجھے گی، کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ میرے گھر کو آگ لگا کر اسے اپنا سیاسی حق قرار دے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ایوان کی ہر کارروائی آئین اور قواعد و ضوابط کے مطابق ہوتی ہے، اسمبلی میں کسی بھی سرگرمی کی اجازت قانون کے دائرے میں رہ کر دی جاتی ہے اور حکومت و اپوزیشن کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی آمد پر خوشی ہوئی، تاہم اسمبلی میں داخلے کے لیے اجازت نامہ اور شناختی دستاویزات لازمی ہوتی ہیں کیونکہ اسمبلی کی حدود ریڈ زون اور سکیورٹی پیرامیٹرز کے تحت آتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے ضروری ہیں اور تمام جماعتوں کو وفاق کو مضبوط کرنے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ سہیل آفریدی کے ہمراہ ایسے افراد لائے گئے جو گھیراؤ جلاؤ کے مقدمات میں نامزد اور سزا یافتہ تھے، جبکہ کئی افراد کے پاس نہ اجازت نامہ تھا اور نہ ہی شناختی کارڈ۔ ایسے افراد کو پنجاب اسمبلی کی عمارت میں لانا سکیورٹی قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ اسمبلی جمہوری لوگوں کی مسجد ہوتی ہے، مگر یہاں وزیراعلیٰ مریم نواز کے خلاف انتہائی نامناسب زبان استعمال کی گئی۔ خیبرپختونخوا سے آئے بعض افراد نے غیر مہذب رویہ اپنایا جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی کے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ہائی پاور انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور اسمبلی کے ہر کونے کی سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی جاتی ہے۔ اسمبلی کی حفاظت کے لیے سخت سکیورٹی ایس او پیز نافذ ہیں اور ہر فرد کو اسمبلی کے تقدس کا خیال رکھنا ہوگا۔
سپیکر نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کسی عوامی ردعمل کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ منظم منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے۔ دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی کہ ایک ہی دن میں ملٹری تنصیبات اور سیاسی دفاتر پر حملے کیے جائیں اور پھر اسے عوامی جذبات قرار دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان ہمارا فخر ہیں اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس فخر کو نقصان پہنچائے۔ کسی صورت یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ کوئی شخص گھروں کو آگ لگا کر اسے سیاسی حق کہے۔






