کرسمس پر توڑ پھوڑ، بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و ستم نہایت تشویشناک ہے: دفتر خارجہ

0
452

اسلام آباد: پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھارت میں کرسمس کے موقع پر ہونے والے توڑ پھوڑ اور پرتشدد واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑھتا ہوا ظلم و ستم نہایت تشویشناک ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے اور ایسے واقعات ریاستی سرپرستی میں پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے جس کے باعث اقلیتوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس مزید گہرا ہو رہا ہے۔

ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے مظالم کا نوٹس لے اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 25 دسمبر کو بھارت کے مختلف حصوں میں کرسمس کی تقریبات کو ہندوتوا سے وابستہ انتہا پسند عناصر نے نشانہ بنایا۔ کئی مقامات پر مسیحی برادری کی مذہبی تقریبات میں مداخلت کی گئی اور سجاوٹ کو نقصان پہنچایا گیا۔

ریاست آسام کے ضلع نلباڑی میں واقع سینٹ میری اسکول میں توڑ پھوڑ کی گئی، جبکہ پانیگاؤں میں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد سے وابستہ افراد پر تشدد اور ہنگامہ آرائی کے الزامات سامنے آئے۔ چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں ایک شاپنگ مال میں کرسمس کی سجاوٹ کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ کیرالہ کے ضلع پالکّاڈ میں بچوں کے کرسمس کیرول گروپ پر حملے کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ برسوں میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلم اور مسیحی برادری کے خلاف پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے تشویش میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا