پختونخوا کو 15 سال میں 800 ارب روپے دیے گئے، کوئی ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

0
384

اسلام آباد — وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس کے دوران 800 ارب روپے فراہم کیے گئے، تاہم خیبرپختونخوا میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے۔

قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی اور پائیدار ترقی اسی صورت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں طور پر آگے بڑھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیے بغیر قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹ اور منفی پراپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کے اذہان میں زہر گھولا جا رہا ہے، یہاں تک کہ شہدا کی عظیم قربانیوں کی توہین کرتے ہوئے سرحد پار دشمن کی زبان بولی جاتی ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے خیبرپختونخوا کو ایک اہم اور اسٹریٹجک صوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس صوبے کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں۔ افغان جنگ کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا کے عوام نے فرض سمجھ کر کی، تاہم اس کے نتیجے میں کلاشنکوف کلچر اور دہشت گردی نے جنم لیا، جس میں ہزاروں بے گناہ شہری شہید ہوئے۔

شہباز شریف نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد قومی اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا تھا کہ گڈ اور بیڈ طالبان کی کوئی تفریق نہیں ہوگی۔ ایک لاکھ سے زائد جوانوں، افسروں اور شہریوں کی قربانیوں کے بعد دہشت گردی پر قابو پایا گیا، تاہم 2018 کے بعد بعض غلط فیصلوں کے باعث یہ ناسور دوبارہ سر اٹھا گیا، جس سے قومی ترقی کو شدید نقصان پہنچا۔

انہوں نے بتایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب نے اپنے حصے سے ایک فیصد خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے دیا، جبکہ بلوچستان کو بھی اضافی وسائل فراہم کیے گئے۔ بلوچستان کی خونیں شاہراہ کے لیے 400 ارب روپے مختص کیے گئے، کسانوں کے لیے سولر ٹیوب ویلز منصوبے میں وفاق نے 50 ارب روپے دیے، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی 6 مئی کی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے بھرپور دفاع کیا اور دشمن کے 7 لڑاکا طیارے مار گرائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دشمن کو ایسا سبق سکھایا گیا جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔

افغانستان سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغان عبوری حکومت سے دوحا اور چین میں بات چیت کی گئی، تاہم پاکستان کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی جاری رہی، جس پر پاکستان کو سخت فیصلے کرنا پڑے۔ اب یہ فیصلہ افغان عبوری حکومت کو کرنا ہے کہ وہ پرامن ہمسایہ بن کر رہنا چاہتی ہے یا نہیں۔

خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان سرد جنگ کا تاثر درست نہیں، تاہم جھوٹ اور پراپیگنڈے کے ذریعے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا