راولپنڈی — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ مخالفین کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں، بہتر یہی ہے کہ صلح صفائی ہو، تاہم اگر حکومت ایک ہاتھ سے ہاتھ ملائے اور دوسرے ہاتھ سے مکا مارے تو حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال اسٹیبلشمنٹ سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں، اور اگر کبھی ہوا تو اسے چھپایا نہیں جائے گا۔
راولپنڈی میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان سے دوبارہ ملاقات کی کوشش کر رہے تھے، تاہم چیف جسٹس مصروف تھے اور وہ تین گھنٹے تک انتظار بھی کرتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی تین بہنوں کو ملاقات کرنی ہے، جبکہ دیگر افراد اظہارِ یکجہتی کے لیے آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہئیں اور حکومت کو بھی ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے الزامات کا موقع ملے۔ جو لوگ الزامات لگاتے ہیں وہ ثبوت بھی پیش کریں۔
مقدمات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 17 جنوری 2025 کو القادر کیس میں سزا سنائی گئی، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود اپیل نہیں لگی۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو ایک سال سے ضمانت تک نہیں ملی، جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
انہوں نے عدلیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انصاف لوگوں کو ان کی دہلیز پر ملنا چاہیے، کیونکہ جب انصاف کے دروازے بند ہو جاتے ہیں تو لوگ قانون ہاتھ میں لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں لنچنگ اور خانہ جنگی جیسے حالات جنم لیتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کب تک سپرمین اور ونڈر بوائز کے انتظار میں رہا جائے گا، عدلیہ خدا کے لیے بانی پی ٹی آئی کے مقدمات سنے اور انصاف کرے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب بشریٰ بی بی پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں تو پھر انہیں سزا کیوں دی گئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ اگر کسی قسم کے بیک ڈور رابطے ہوتے ہیں تو وہ انہیں چھپائیں گے نہیں، تاہم اس وقت اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی سے کوئی رابطہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی پر اب بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ مؤثر کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ گریبانوں سے ہاتھ نکالنے ہوں گے، انا کو ختم کیے بغیر معاملات حل نہیں ہوں گے۔ پارٹی کے اندرونی معاملات پر عوامی سطح پر بات نہیں کرتا، پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کچھ معاملات زیرِ بحث آئے تھے، اسی لیے اجلاس مؤخر کر دیا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی پاکستان، افواجِ پاکستان اور ریاست کے ساتھ کھڑی ہے، جب بھی ملک کی بات آئی، پی ٹی آئی نے بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈرز کے نوٹیفکیشن کو جمہوریت اور ایوان کے لیے مثبت اقدام قرار دیا اور کہا کہ دونوں اپوزیشن لیڈرز کی تقاریر میں مثبت پیغامات تھے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو دونوں ہاتھ ملانے ہوں گے، اگر مکے مارے گئے تو عوام پھر احتجاج ہی کریں گے۔ 8 فروری کو پی ٹی آئی اپنا علامتی دن منائے گی، کیونکہ اس دن پارٹی کا مینڈیٹ چوری ہوا۔ 8 فروری کو احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا جو پرامن ہوگا، تاہم عوام سے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی اپیل کی گئی ہے۔
آخر میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا وجود واضح ہے اور بانی پی ٹی آئی کو کسی نشان کی ضرورت نہیں۔ پارٹی کا کیس الیکشن کمیشن میں زیرِ سماعت ہے جو اسٹے آرڈر کے باعث التوا کا شکار ہے۔ انہوں نے اسپیکر کا شکریہ ادا کیا کہ اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اور کہا کہ اس میں کسی اور کے کردار کا تاثر درست نہیں۔






